سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
کثرت سے حج اور عمرہ کرنابہترہےیااُس رقم کوضرورت مندوں پر خرچ کرنابہترہے؟
الجواب وباللہ التوفیق :
فرض حج ادا کرنے کے
بعد کثرت کےساتھ نفل حج اور عمرہ کرناشریعت میں مطلوب اورپسندیدہ ہے،حدیث میں آیا
ہےکہ فرض حج ادا کرنے کے بعد صحت مند اور مالدار شخص کوہرچار پانچ سال میں نفل حج
اورعمرہ اداکرتےرہنا چاہیے” أَنَّ رَسُوْلَ اللہِﷺ قَالَ: قَالَ
اللہُ: إِنَّ عَبْدًا صَحَّحْتُ لَهُ جِسْمَهُ وَوَسَّعْتُ عَلَيْهِ فِي الْمَعِيْشَةِ تَمْضِيْ
عَلَيْهِ خَمْسَةُ أَعْوَامٍ لَا يَفِدُ إِلَيَّ لَمَحْرُوْمٌ۔“(صحيح ابن حبان:رقم الحديث: ۴۷۶۴)
اسی طرح
ضرورت مند لوگوں پر خرچ کرنا بھی دین اسلام میں مستحب اور پسندیدہ ہے ”لا حَسَدَ إلَّا في اثْنَتَيْنِ: رَجُلٌ آتَاهُ اللہُ مَالًا
فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ آنَاءَ اللَّيْلِ وَآنَاءَ النَّهَارِوَرَجُلٌ آتاهُ اللہُ
القُرْآنَ فهو يَقُوْمُ بِه آنَاءَ اللَّيلِ وَآنَاءَ النَّهَار۔“(سنن الترمذی:رقم الحديث: ۲۰۴۹) البتہ دو
نفل کاموں میں سے کس کو ترجیح دی جائے اس کے لئے فقہاء نے یہ قاعدہ بیان کیا ہے کہ
جس نفل کام کی حاجت شدید ہو اور اس کا نفع زیادہ ہو تو وہ افضل ہے ؛لہذا عام حالات
میں نفل حج؛ نفل صدقات سے افضل ہے ،البتہ اگر کوئی شخص بہت حاجت مند اور تکلیف میں
ہو یا متقی و پرہیزگار نیک لوگوں میں سے کوئی ضرورت مند ہو یا سادات ِکرام( آل ِرسول
ﷺ ) میں سے کوئی محتاج ہو تو اس کی مدد کرنا نفل حج سے افضل ہے۔
قال الرحمتي: والحق التفصيل فما كانت الحاجة فيه أكثر والمنفعة فيه أشمل فهو الأفضل كما ورد ”حجة أفضل من عشر غزوات“وورد عكسه فيحمل على ما كان أنفع فإذا كان أشجع وأنفع في الحرب فجهاده أفضل من حجه أو بالعكس فحجه أفضل وكذا بناء الرباط إن كان محتاجا إليه كان أفضل من الصدقة وحج النفل وإذا كان الفقير مضطرا أو من أهل الصلاح أو من آل بيت النبي ﷺ فقد يكون إكرامه أفضل من حجات وعمر وبناء ربط.(حاشیۃ ابن عابدین:۷؍۴۶۴)

