سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
اگرکوئی یک مُشت
زکوۃ کی ادائیگی پر قادر نہ ہوتوکیا ایک سال تک ہر مہینہ زکوٰۃ نکال سکتاہے؟اِس
صورت میں سونے کی قیمت (Goldrate) کا حساب
کیسے کیا جائے؟
الجواب وباللہ التوفیق :
زکوٰۃ فرض ہونے کے بعد سال مکمل ہونےپراپنےمال
کاحساب کرکےجلدازجلدایک ساتھ پوری زکوٰۃ
اداکردینابہترہے،زکوۃ کی ادائیگی میں بلاعذر تاخیرکرنامکروہ ہے،البتہ کسی عذر(مثلاًصحیح
مصرف نہ ملنےیازکوۃ کی ادائیگی کےلئےمال نہ ہونے)کی وجہ سےمتفرق قسطوں یعنی تھوڑی
تھوڑی زکوۃ ادا کرنےکی بھی گنجائش ہے۔
اورجس تاریخ میں
زکوۃ کی ادائیگی ضروری ہوئی اُس
وقت سونےچاندی وغیرہ کی جو قیمت تھی وہی
قیمت سال کے اخیر تک معتبر ہوگی۔
(وافتراضها عمري) أي على التراخي وصححه الباقاني وغيره (وقيل: فوري) أي واجب على الفور (وعليه الفتوى) كما في شرح الوهبانية (فيأثم بتأخيرها) بلا عذر (وترد شهادته) لأن الأمر بالصرف إلى الفقير معه قرينة الفوروهي أنه لدفع حاجته وهي معجلة، فمتى لم تجب على الفور لم يحصل المقصود من الإيجاب على وجه التمام وتمامه في الفتح. (الدر مع الرد :۲؍ ۲۷۱) (مستفاد :فتاوی محمودیہ :۹؍۴۶۵- ۴۶۸،کتاب النوازل :۶؍۵۴۴، ۵۴۵)

