غسل یا تدفین سے پہلے قرآ ن کے ذریعہ ایصال ثواب کاحکم

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

 میت کےلئےاُس کوغسل  دیئے جانےسےپہلےکیاایصالِ ثواب کیا جاسکتاہے،اسی طرح میت کوغسل دینے اورکفن پہنانےکےبعدایصال ثواب کرسکتے ہیں یا نہیں ؟  ہماری رہنمائی فرمائیں احسان ہوگا۔

الجواب وباللہ التوفیق :

ہرانسان  انتقال ہوتے ہی ناپاک ہوجاتاہے؛اس لئے اس کو غسل دینے سے پہلے اس کے پاس قرآنِ پاک کی تلاوت کرنامکروہ اور منع ہے،البتہ دوسرے کمرہ میں یا  میت سےدور بیٹھ کر تلاوت کرنا جائز ہے۔

غسل دینے کے بعد تد فین سے پہلےمیت سے قریب یا دور کہیں بھی قرآن پاک پڑھا جاسکتاہے ، اس میں کچھ حرج نہیں۔

تكره القراءة عنده حتى يغسل وعلله الشرنبلالي في إمداد الفتاح تنزيها للقرآن عن نجاسة الميت لتنجسه بالموت قيل نجاسة خبث وقيل حدث. (الدرالمختار:۱۱۷)

وذكر ان محل الكراهة اذا كان قريباً منه أما اذا بعد عنه بالقراءة فلا كراهة.(رد المحتار: ۲؍۱۹۴) (مستفاد:فتاوی رحیمیہ:۳؍۵۸۲ ،۵۸۳ )