سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
اگر کسی نے فجرکی دورکعت سنت نہ پڑھی ہو اورفرض نمازشروع ہوجائے تو پہلے سنت پڑھنا چاہئے یاجماعت کی نمازمیں شریک ہونا،تفصیل
سے بتائیں ؟
الجواب وباللہ التوفیق :
حدیثِ پاک
میں سنتِ فجر کی بڑی فضیلت اورتاکیدآئی ہوئی ہے اورنمازباجماعت کی بھی،لہذا کوشش کریں کہ دونوں فضیلتیں حاصل ہوجائیں،لہذا اگرایک
رکعت ملنے کی توقع ہوتوپہلے سنت پڑھ لیں ،اورسنت جماعت کی صفوں سےہٹ کرمسجدکےصحن میں
یا کسی دیواراورستون وغیرہ کی آڑ میں اداکریں، اگردیواریاستون وغیرہ کوئی آڑ نہ
ہوتوسنت چھوڑ کرجماعت میں شامل ہو جائیں،اس لئے کہ صف کے ساتھ یا صف کےپیچھےبغیرکسی
آڑ کےسنت پڑھنا مکروہِ تحریمی ہے۔
اسی طرح اگردونوں رکعتیں یاجماعت کےفوت ہونے کا خطرہ ہوتوسنت چھوڑکر جماعت کی نمازمیں شریک ہو جائیں اورسورج طلوع ہونے کے بعد دوسنت پڑھ لینابہترہے ضروری نہیں،مگر سورج طلوع ہونے سے پہلےسنت یانفل پڑھناسخت منع ہے۔
(مستفاد:فتاوی رشیدیہ :۲۸۴)
رجل انتهى إلى الإمام والناس في صلاة الفجر إن خشى أن
تفوته ركعة من الفجر بالجماعة ويدرك ركعة صلى سنة الفجر ركعتين عند باب المسجد ثم
يدخل المسجد ويصلى مع القوم.(الفتاوی
التارتارخانیۃ :۲؍۳۰۸ )
فی الدرالمختار :لا یترکھا بل يصليها عند باب المسجد إن وجد
مكاناً وإلا تركها. وفی الشامیة تحت قوله : عند باب المسجد أى خارج المسجد كما صرح به القهستانى …… فإن لم يكن على باب المسجد موضع
للصلوٰة يصليها في المسجد خلف سارية من سوارى المسجد وأشدها كراهة أن يصليهامخالطاً
للصف مخالفاً للجماعة والذي يلي ذلك خلف الصف من غير حائل……وأما إذا فاتت وحدها فلا تقضي قبل طلوع الشمس بالإجماع لكراهة النفل بعد الصبح وأما بعد
طلوع الشمس فكذلك عندهما وقال محمد رحمه اللہ أحب إلي أن يقضيها إلى الزوال. (الرد مع الدر :۲؍۵۷)

