سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
ہمارےمُصلیٰ میں مغرب
کی اذان کےبعدپانچ سات منٹ کی تاخیر سےنمازِمغرب ادا کرتےہیں تاکہ لوگ جمع ہوجائیں،کیاشرعاً اتنی تاخیرجائز ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق :
عام حالات میں مغرب
کی اذان اوراقامت میں جلدی کرنا مستحب ہے،اس استحباب کا لحاظ کرتے ہوئے قدرے تاخیرکی
گنجائش ہے،جس کا اندازہ فقہاء سے تین چھوٹی آیتیں پڑھنے کے بقدر منقول ہے،اورنمازیوں
کو اذان سے قبل نماز کی تیاری کرنی چاہئے؛ تا کہ کوئی فضیلت نہ چھوٹے،لہذا صورتِ
مسئولہ میں پانچ سات منٹ کی تاخیركامعمول بنانا
مکروہ ہے ۔(مستفاد : كتاب المسائل :۳؍۲۵۳)
واما المغرب فيكره تأخيرها اذا
غربت الشمس .(الفتاوی التاتارخانیۃ :۲؍۱۱)
ویستحب تعجیل المغرب فی کل زمان .(الفتاوی الہندیۃ :۱ ؍۵۲)
وأما إذا كان في المغرب فالمستحب
يفصل بينهما بسكتة يسكت قائما مقدار ما يتمكن من قراءة ثلاث
آيات قصار. (الفتاوى الهندية: ١ ؍٥٧)

