حظر واباحت Fatwa No: 79
مسجد کے درختوں کے پھل کا استعمال

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

ہماری مسجد میں پپیتا اور کیلے کا درخت مؤذن صاحب نے لگایا ہے، اس کےعلاوہ بھی بہت سارے پیڑ پودےہیں،اورمؤذن صاحب روزانہ اس کی دیکھ بھال کرتے ہیں اور مسجد ہی کا پانی اُن درختوں کو دیا جاتا ہے، مسجد وقف کی جگہ ہے، امام ہونے سے مجھےبھی اس میں سےپھل دیا جاتا ہے، کیا اس کاکھانا جائز ہے،ایک مرتبہ میں نے لے لیا، ان درختوں سے مسجد کو کوئی   آمدنی نہیں ہوتی ہےاورنہ ہی اس کی کوئی وضاحت ہے۔

الجواب وباللہ التوفیق :

مسجد میں جو درخت لگائے جاتے ہیں وہ وقف ہوجاتے ہیں،انہیں بلا قیمت استعمال کرنادرست نہیں ہے،اگراستعمال کرلیاہے تو اُس کی قیمت مسجدکو واپس کی جائے۔

ولو غرس في المسجد يكون للمسجد..... مسجد فيه شجرة التفاح  قال بعضهم:يباح للقوم أن يفطروا بهذا التفاح والصحيح:أنه لا يباح لأن ذلك صار للمسجد يصرف إلى عمارة المسجد. (فتاوی قاضیخان:  ۳؍۲۱۷ ،مکتبۃ زکریا )

            ملحوظہ :مسجدکےدرختوں سےپیداہونےوالےپھلوں کوفروخت کرکےاس کی قیمت مسجدکی ضروریات میں استعمال   کی جائے گی۔