سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
کیاپیدائش اور
شادی وغیرہ کی سالگرہ (Anniversary)منانا جائز ہے؟
اوران میں شرکت کرنا کیساہے؟
الجواب وباللہ التوفیق :
(۱)یومِ پیدائش(birthday)یومِ شادی (Anniversary) یاکسی اور چیز کی سالگرہ منانا ممنوع اور ناجائز ہے، اگر یومِ پیدائش فی
الواقع کوئی اہم چیز ہوتی تو تاجدارِ مکہ ، مدنی آقا حضور اقدس ﷺ ضرور اپنی یومِ پیدائش
کی رسم مناتے اور صحابہ کو حکم فرماتے، لیکن قرآن وحدیث کے ذخیرے اور تاریخ وسیرت
کی کتابیں ہمارے سامنے موجود ہیں، کہیں بھی اِس
رسم کا ثبوت موجود نہیں ہے، ورنہ حضور ﷺ سے بڑھ کر کون معصوم اور مقدس ہو
سکتا ہے ، پوری کائنات میں آپ سب سے زیادہ مستحق تھے کہ آپ کی یوم پیدائش کی رسم
منائی جائے، مگر آپ نے نہ کبھی یہ رسم ادا کی اور نہ ہی اس کا حکم فرمایا، لہذا یہ
رسم ناجائز اور منع ہے، جس میں حسبِ حیثیت بلکہ حیثیت سے بڑھ کر فضول خرچی اور
اسراف کا گناہ ہوتا ہے،بعض جگہوں میں لوگ قرض لے کر یہ رسم ادا کرتے ہیں، پھر اس کی
ادائیگی شاید ہی ہو پاتی ہے اور بعض جگہوں میں سودی قرضوں سے اس رسم کو پورا کرتے
ہیں۔ نعوذ باللہ من ذلک ! حالانکہ وقت ایک بیش بہا نعمت اور عطیہ ہے ، سالگرہ کے
موقعہ پر افسوس اور ماتم کرنا چاہئے کہ ہماری اتنی زندگی اطاعت میں گذری یاغفلت میں
؟؟ بقول شیخ سعدی ؎
چہل سال عمر عزیزت گذشت
مزاج تو از حال طفلی نہیں گشت
اپنی پیاری عمر کے چالیس
سال گذر گئے مگر بچپن کا مزاج اب تک نہیں بدلا،اور برابر لا پرواہی اور غفلت جاری
ہے، کسی نے کیا ہی خوب کہا” گیا وقت پھر
ہاتھ آتا نہیں “ان باتوں کو ذہن میں رکھ کر رسومات سے باز آئیں، اور آئندہ کی چند
روزہ زندگی اطاعت خد اور سول میں گزارنے کی کوشش کریں۔
(۲) سالگرہ کی رسم میں شرکت نا جائز ہے ، اور شرعاً ان
رسومات میں شرکت کا کوئی ثبوت نہیں ہے ، اور سالگرہ کی مٹھائی اولاً واپس کر دیں
بصورت دیگر غریبوں میں تقسیم کر دیں : مَنْ
أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ.(مشکوۃ شریف:۲۷)
آپﷺ کاارشاد ہے : مَنْ تَشَبَّہَ بِقَوْمٍ فَھُوَ مِنْھُمْ .”جس شخص نے کسی قوم کے ساتھ مشابہت بھی اختیار کی وہ (انجام کار) انہیں میں سے ہوجائےگا۔“)سنن أبی داود : ۴۰۳۱) (مستفاد:فتاوی رفیقیہ:۳۲۴، ۳۲۵)

