زکوٰۃ کی رقم تحفہ کےنام پردینا

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

میرے ایک قریبی دوست کی مالی حالت بہت کمزور ہے اور وہ زکوٰۃ کےمستحق ہیں اورچند ماہ بعد ان کی شادی بھی ہونے والی ہے،اگر میں انہیں زکوٰۃ کےنام پر پیسے دوں تو ان کی دل آزاری ہوگی تو کیا میں زکوٰۃ کی نیت کرکے  انہیں یہ رقم تحفہ(Gift) کےطور پر دے سکتا ہوں؟ 

الجواب وباللہ التوفیق :

 زکوٰۃ کی رقم دیتے ہوئے یہ بتانا ضروری نہیں ہے کہ یہ زکوٰۃ کی  رقم ہے؛بلکہ جس شخص کوزکوٰۃ دی  جائے اس کامستحقِ زکوٰۃ ہوناضروری ہے،لہذا صورتِ مسؤلہ میں اگرآپ کےدوست واقعی محتاج ہوں تواُن کوزکوٰۃ کی رقم تحفہ اورہدیہ کہہ کردینے  کی شرعاً اجازت ہے۔

ومن أعطى مسكيناً دراهم وسماها هبةً أوقرضاً ونوى الزكاة فإنها تجزيه وهو الأصح هكذا في البحر الرائق ناقلاً عن المبتغى والقنية. )الفتاوى الهندية ؍۲۳۳)