ایک درود الصلوٰۃ الناریۃ کا حکم

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

 سوشل میڈیا میں”الصلوٰۃ الناریۃ“ کے نام سے ایک درودکو بہت پھیلایا جارہاہے،جس کے الفاظ یہ ہیں؛’’اَللّٰهُمَّ صَلِّ صَلَاةً كَامِلَةً وَّ سَلِّمْ سَلَامًا تَامًّا عَلٰى سَيِّدِنَا وَ مَوْلَانَا مُحَمَّدٍ صَلَاةً تَنْحَلُّ بِهَا الْعُقَدُ وَ تَنْفَرِجُ بِهَا الْكُرَبُ وَ تُقْضٰى بِهَا الْحَوَائِجُ وَ تُنَالُ بِهَا الرَّغَائِبُ وَ حُسْنُ الْخَوَاتِيْمِ وَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ الْكَرِيْمِ وَ عَلٰى آلِهِ وَ صَحْبِهِ فِيْ كُلِّ  لَمْحَةٍ وَّ نَفَسٍ بِعَدَدِ كُلِّ مَعْلُوْمٍ لَّكَ‘‘.کیایہ درود ثابت ہےاوراس کاپڑھنادرست ہے؟ مدلل جواب عنایت فرمائیں ۔

الجواب وباللہ التوفیق :

 مذکورہ درود کے الفاظ حضور ِاکرم ﷺ کی کسی حدیث سے ثابت نہیں،اگرچہ اس درود کے الفاظ اورمعنی صحیح ہیں؛لیکن جودرودحدیث سے ثابت ہیں جیسےدرود ِابراہیمی وغیرہ انہیں درودکوپڑھناچاہئے۔