سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
عورت محرم کےبغیرتنہا
کتنی دور تک کاسفر کرسکتی ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق :
عورت کےلئےمسافتِ سفریعنی سواستتر کلومیٹر(77.1/4)اوراس سےزائدمحرم کے بغیر سفر کرنا جائزنہیں؛البتہ شدید ضرورت کے وقت مسافتِ
سفر(77.1/4)سےکم سفرکرسکتی ہے،بشرطیکہ
راستہ پُرامن ہواورفتنہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہواوراگرفتنے کااندیشہ
ہوتومحرم کے بغیرمسافتِ سفر سے کم سفرکرنا بھی درست نہیں ہے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: لَا
تُسَافِرُ امْرَأَةٌ مَسِيرَةَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ إِلَّا مَعَ ذِيْ مَحْرَمٍ. (مسند
أحمد: ۸۵۶۴)
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ
عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللهِ
وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ يَوْمٍ إِلَّا مَعَ ذِي مَحْرَمٍ. (صحيح
مسلم: ۴۲۰)
(قولُه فِي سَفَرٍ) هُوَ ثَلَاثَةُ أَيَّامٍ وَلَيَالِيهَا فَيُبَاحُ لَهَا الْخُرُوجُ إلَى مَا دُونَهُ لِحَاجَةٍ بِغَيْرِ مَحْرَمٍ بحر، وَرُوِيَ عَنْ أَبِي حَنِيفَةَ وَأَبِي يوسفَ كَرَاهَةُ خُرُوجِهَا وَحْدَهَا مَسِيرَةَ يَوْمٍ وَاحِدٍ وَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ الْفَتْوَى عَلَيْهِ لِفَسَادِ الزَّمَانِ. (رد المحتار:۲؍۳۶۴)(مستفاد : كتاب النوازل ۱۵؍۴۱۷، ۴۱۹)

