سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
آج کل شہروں میں بہت سی کمپنیاں ”لکی
ڈرا“کے نام سےاسکیمیں چلاتی ہیں،جس کی ایک شکل یہ
ہے کہ(مثلاً)ماہانہ ہرشریک کو 2000 روپئے جمع کرنے ہوتےہیں،پھرایک
مقررہ تاریخ پرقرعہ اندازی ہوتی ہے،جس میں لکی ڈرا کے ذریعہ گاڑی، گھریا اور کوئی
چیز انعام میں ملتی ہے، اس کا شرعی حکم واضح فرما کر عنداللہ ماجور ہوں۔
الجواب وباللہ التوفیق :
صورتِ مسئولہ میں ذکر کردہ اسکیم بعض وجوہات کی
بناء پر ناجائز اورحرام ہے ۔
(۱) جو رقم ماہانہ مذکورہ
اسکیم میں جمع ہوتی ہے؛اس کےتمام ممبران برابر درجہ کے شریک اور مالک ہیں،اس لئےکہ
سب کی رقم برابر مقدارمیں لگی ہوئی ہے،قرعہ اندازی کے ذریعےاسکیم میں شریک سب
لوگوں کی رقم کاصرف ایک شخص بغیر کسی عوض کے مالک
بن جاتاہے،دیگرشرکاءبادلِ ناخواستہ اورمجبوراًراضی ہوجاتےہیں،جبکہ ہرشخص کی یہ
تمناہوتی ہے کہ قرعہ میرےنام نکل آئے،ازروئے شرع دوسرے کے مال سے اس کی واقعی خوشدلی
کےبغیرفائدہ اُٹھاناارشادِنبوی: لَا
يَحِلُّ مَالُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِطِيْبِ نَفْسِهِ. (سنن الدارقطني : ۲۸۸۵) کےمطابق ناجائز ہے۔
(۲) اورمذکورہ
اسکیم کسی بھی جائز شرعی عقود میں داخل
نہیں ہے۔
(٣) اورمذکورہ اسکیم جوااورقمار
میں داخل ہے،اس لئےکہ جومعاملہ مبہم ہویعنی نفع اور نقصان کے درمیان دائر ہو شرعا
ًوہ جوا اورسٹہ کہلاتا ہے۔
لہذامروجہ لکی ڈرااسکیم(جس میں لوگ زیادہ رقم ملنےکی اُمید پررقم جمع کراتے ہیں
پھرکسی کسی کو جمع شدہ رقم سے بہت زیادہ
مل جاتا ہے اوراکثروں کی جمع شدہ رقم ضائع ہوجاتی ہے)جوا اور لاٹری ہی کی ایک ترقی
یافتہ شکل ہے،اس لئے اس میں اپنی رقم لگانااورکسی بھی اعتبارسےشرکت کرنابالکل جائز
نہیں ہوگا۔(مستفاد:
فتاوی قاسمیہ جلد ۲۰ ؍ ۵۱۴)
یا ایھا الذین آمنوا انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام
رجس من عمل الشيطان فاجتنبوہ لعلکم تفلحون.(سورۃ
المائدۃ :۹۰)
قاعدۃ :تعلیق الأملاک بالاخطار باطل. ( قواعد الفقہ :۵۰)
قولہ”لانہ یصیر قمارا“لان القمار من القمر الذی یزداد تارۃ
و ینقص اخرى وسمی القمار قمارا لان کل واحد من المقامرین ممن یجوز ان یذھب مالہ الی
صاحبہ ویجوز ان یستفید مال صاحبہ وھو حرام بالنص. (ردالمحتار:۶؍۴۰۳ )

