مشینی ذبیحہ کا حکم

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

                      آج کل  اسلامی اورغيراسلامی بعض ملكوں میں جانوروں  کومشین سے ذبح کیا جاتا ہے جس کو مشینی ذبیحہ      (Mechanical Slaughtring)      کہتے ہیں،مشین چلاتے وقت  صرف بسم الله کہہ کر چلادیتے ہیں، کیایہ  گوشت حلال ہوگا،جواب عنایت فرمائیں؟

الجواب وباللہ التوفیق :

 ذبیحہ حلال ہونے کے لئے فقہاء نے یہ تین  شرطیں تحریر کی ہیں۔(۱) بسم اللہ پڑھ کرفوراً ذبح کرنا ،یعنی بسم اللہ اورذبح کےدرمیان فاصلہ نہ ہونا۔(۲)اور بسم اللہ متعین جانور پر پڑھنا۔ (۳) اورذبح کرنےوالے شخص کابسم اللہ پڑھنا۔مشینی ذبیحہ میں عموما یہ شرطیں نہیں پائی جاتی ہیں، اس لئے مشین سےذبح کیاجانورحلال نہیں ہوگا۔

نیز واضح رہےکہ مشینی ذبح  کا طریقہ(جس میں جانور کی گردن کے اوپر سے کاٹا جاتا ہے)  شریعت کے خلاف اور باتفاق جمہور ناجائز اور گناہ ہے ۔

أما وقت التسميۃ فوقتھا فی الذکاۃ الاختياريۃ وقت الذبح لا یجوز تقدیمھا علیہ الا بزمان قلیل لا یمکن التحرز عنہ. ..... أرأيت الذابح یذبح الشاتین والثلاثۃ فیسمی علی الاول ویدع التسميۃ علی غیر ذلک عمدا قال :یاکل الشاۃ التی سمی علیھا ولا یاکل ما سوی ذلک.( بدائع الصنائع : ۴؍۱۷۱)

واما الشرط الذي يرجع الى محل الذكاه فمنها تعيین المحل بالتسميۃ في الذكاه الاختياريۃ وعلى هذا يخرج ما اذا ذبح وسمى ثم ذبح اخرى يظن ان التسميۃ الاولى تجزي عنهما لم تؤكل فلابد ان يجدد لكل ذبيحة تسميۃ على حدۃ.( الفتاوی  الہندیۃ :۵؍  ۳۲۹   مطبوعہ زکریا دیوبند)

 وکرہ ذبحھا من قفاھا ان بقیت حیۃ حتی تقطع العروق والا لم تحل لموتھا بلا ذکاۃ والنخع و قطع الراس.(الدرالمختار:۶۴۰) (مستفاد: منتخب فتاوی دار العلوم دیوبند:۴۵۳، احسن الفتاوی :۷؍ ۴۶۱، زکریادیوبند)