حظر واباحت Fatwa No: 65
سر کے بال رکھنے اورکٹوانے کا شرعی حکم

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

سرکےبال رکھنے اورکٹوانے کے طریقوں (hair style) میں سے کونساطریقہ شرعاً درست ہے   اور کون   سا غلط؟ براہِ کرم وضاحت فرمائیں۔

الجواب وباللہ التوفیق :

حضورﷺ جس طریقہ سے بال رکھتے تھے اُس کے مطابق بال رکھے جائیں،آپ ﷺکے بال رکھنے کی  تین صورتیں حدیث میں آئی  ہیں :(۱) کبھی کاندھوں  تک لمبے ہوتے تھے اس کو جُمّہ کہاجاتاہے۔(۲)کبھی کانوں کی لو تک ہوتے تھے اس کو وَفرہ  کہاجاتاہے۔(۳) اور کبھی کانوں کی لو اورمونڈھوں  کے درمیان  تک ہوتے تھے اس کو لِمّہ کہاجاتاہے۔لہذامسنون طریقہ یہ ہے کہ پورے سر پر سنت کے مطابق بال رکھے جائیں یا سب کے سب منڈا دیئے جائیں۔

اگران دونوں کےدرمیان بالوں کو کم کرواجائے جبکہ پورےسرکے بال بالکل برابر برابر ہوں تویہ بھی درست ہے؛لیکن کچھ حصہ منڈانا اور کچھ حصہ میں بال رکھنا،یا چھوٹے بڑے بال رکھنا؛جوآج کل ایک فیشن ہے،یہ طریقہ خلاف ِسنت ہے،فاسق وفاجراورنصاریٰ کےساتھ مشابہت کی وجہ سےممنوع اورغلط ہے،البتہ  گردن یا کان کے پچھلے حصہ پر اُسترا چلانا  منع نہیں ہے؛تاہم یہ خیال رہے کہ زیادہ اوپر سے اُسترا نہ چلایاجائے۔

عن ابن عمر قال  قال رسول اللہ ﷺ     من تشبه بقوم فهو منهم. (سنن أبي داود:۴۰۳۱)

عن ابن عمرأن النبي صلى اللہ ﷺ رأى صبيا قد حلق بعض شعره وترك بعضه فنهاهم عن ذلك وقال   احلقوا كله أو اتركوا كله.  (سنن أبي داود:۴۱۹۵)

يكره القزع وهو أن يحلق البعض ويترك البعض قطعاً مقدار ثلاثة أصابع كذا في الغرائب.(الفتاوی الہندیۃ :۵؍ ۳۵۷)  (مستفاد :محمودالفتاوی :۹؍۹۱،فتاوی رحیمیہ:۵؍ ۳۴۰،کتاب النوازل :۱۵؍۵۰۷ )