سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
ایک شخص ”آمبور“ میں رہتا تھا، وہی اس کا اصل وطن ہےاور وہیں اس کی پیدائش بھی ہوئی، اب وہ ”آمبور“
سے ”مدراس“ کی طرف اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ منتقل ہوچکاہے، جہاں اس کا کاروبار
ہے۔ظاہر ہے کہ آمبوراور مدراس کےدرمیان سفرشرعی کا فاصلہ ہے،اوراس کاآمبورمیں خاص گھربھی ہےتاکہ جب کبھی وہ
آمبور آئے تو اسی گھر میں ٹھہر سکے۔ اب وہ مدراس میں رہائش پذیر ہے اور کبھی کبھی
آمبورآتاجاتا رہتا ہے،سوال یہ ہے کہ کیا دونوں جگہیں اس کے وطنِ اصلی بن سکتی ہیں؟یا
صرف ایک جگہ ہی وطنِ اصلی شمار ہوگی؟براہِ کرم تفصیل کے ساتھ سمجھائیں۔
الجواب وباللہ التوفیق :
وطنِ اصلی محض دوسری جگہ رہائش اختیار کرنے سے باطل نہیں ہوتا، بلکہ اگر کوئی
شخص اپنے وطنِ اصلی کے علاوہ کسی اور علاقے کو وطن بنالیتاہے اورپہلے وطن میں جائیداد
ہےاورآمد ورفت بھی رکھتا ہے تو ایسے شخص
کے لیے دونوں ہی وطن اس کے وطنِ اصلی
کہلائیں گے اور ایسا آدمی دونوں جگہ نماز پوری پڑھے گا۔
وفي المجتبى نقل القولين فيما
إذا نقل أهله ومتاعه وبقي له دور وعقار ثم قال وهذا جواب واقعة ابتلينا بها وكثير من
المسلمين المتوطنين في البلاد ولهم دور وعقار في القرى البعيدة منها يصيفون بها بأهلهم ومتاعهم فلا بد من حفظها أنهما وطنان له
لا يبطل أحدهما بالآخر .(البحرالرائق:۲؍۱۴۷)
ففي البدائع: ثم الوطن الأصلي یجوز أن یکون واحدا أو أکثر من ذلک. (بدائع الصنائع: ۱/۲۸۰ زکریا)

