سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
ظہرسےپہلے کی چاررکعت سنت پڑھنے
کےدوران جماعت کھڑی ہو جائے،اس لئےاگرکوئی دوہی رکعت پرسلام پھیردے،توظہرکی فرض
اوردوسنت کےبعد اُس (چاررکعت)سنت کی قضاء واجب ہوگی یابہتر ؟
الجواب وباللہ التوفیق :
ظہر سے پہلے کی چار رکعت سنت چونکہ ایک
سلام کے ساتھ ہی مشروع ہے ،اس لئے
دو رکعت پر سلا م پھیرنے کی وجہ سے وہ نفل
ہوگئی،لہذا ظہرکی فرض اوردوسنت کے بعداُس(چار رکعت)سنت قضا کی جائےاوریہ قضا بطورِ
سنت ہوگی
نہ کہ واجب وضروری۔
وإن كان قد شرع في سنة الجمعة فخرج الخطيب أو شرع في سنة الظهر فأقيمت الجماعة سلم بعد الجلوس على رأس ركعتين كما روي عن أبي يوسف والإمام وهو الأوجه لجمعه بين المصلحتين ثم قضى السنة أربعا لتمكنه منه بعد أداء الفرض.( حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح:۴۵۱)
و قضاء الفرض و الواجب و السنة فرض وواجب وسنة لف ونشر مرتب .(الدرالمختار مع رد المحتار :۲؍ ۶۶،فتاوی محمودیہ :۷؍۱۹۷)

