طہارت کے احکام
Fatwa No: 56
نزلہ ،زکام کے قطرات نجس نہیں
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
دورانِ نماز سردی یا زکام کی وجہ سے جو پانی ناک سے نکلتا ہے اگر وہ کپڑے میں
ٹپک جائے یا مصلے میں گر جائے تو کیا حکم ہے۔
الجواب وباللہ التوفیق :
نزلہ یازکام کی وجہ
سے جوقطرات ناک سے نکلتے ہیں ؛وہ نا پاک نہیں ہیں،لہذا اگریہ قطرات کپڑے یا جسم پر لگ جائیں تو وہ ناپاک نہیں ہوں گے؛البتہ نمازکی
حالت میں رومال
یاتولیہ سامنے رکھ لیاجائے ،تاکہ ناک سے قطرات گرنےپرمسجدکے فرش خراب نہ
ہوں ۔
فأما الانسان فإن
ما يخرج منه على ثلاثة اقسام :قسم منه طاهر وبخروجه لا ينتقض الوضوء وإن اصاب
شيئاً لا ينجسه وهو عشرة اشياء :وسخ الأذن ودموع العين والمخاط والبزاق والبلغم ….الخ(النتف فی
الفتاوی :۳۷)
ولو نزل من الرأس فطاهر اتفاقا وفي التجنيس أنه طاهر كيفما كان وعليه الفتوى.( البحر الرائق: ۱؍۳۷ دارالكتب العلمية بيروت) (مستفاد فتاوی محمودیہ :۵؍۷۳ اشرفی بک ڈپو)

