حظر واباحت Fatwa No: 55
ناجائز مال سے مسجد کاتعاون کرنا

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

جس شخص کی آمدنی کا دوتہائی  حصہ صحیح نہیں ہے،وہ شخص مسجد کی چٹائی کے لئے تعاون کرنا چاہتا ہے،کیااس کا تعاون قبول کیا جاسکتاہے ؟ اگر مسجد کے بعض ذمہ داروں نے اس کا تعاون قبول کر کے چٹائی بچھا دی ہوں تو اس چٹائی پر نماز پڑھنے کا حکم کیا ہے؟ 

الجواب وباللہ التوفیق :

جس شخص کی آمدنی کا اکثر حصہ حرام ہو جیسا کہ سوال سے ظاہر ہے،اس کے  تعاون کو مسجد کے حق میں قبول کرناجائز نہیں ہے ، اگر ذمہ داروں نے اس کے تعاون سے مسجد میں چٹائی بچھادی ہو تو اس پر نمازپڑھنا مکروہ ہے۔

أما لو أنفق فى ذلك مالا خبيثا او مالا سببہ الخبيث والطيب فيكره،لان اللہ تعالى لا یقبل إلا الطيب فيكره تلویث بیته بمالایقبلہ.(ردالمحتار:کتاب الصلوة  ۲ ؍ ۵۲۰ : اشرفیہ دیوبند)

 (مستفاد : فتاوی محمودیہ،۱۵؍۱۰۱،کتاب النوازل  ۱۳؍۳۵۲ )