اپنے آپ کو مرتد کہنا

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

 میرا ایک دوست ہے وہ اپنے آپ کو(کبھی مایوسی کی وجہ سے ، کبھی مذاق میں)مرتد کہتا ہے ،ایسا کہنا شرعاً کیسا ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق :

کسی مسلمان کا جان بوجھ کر یا مذاق میں اپنے آپ کومرتد کہنا،کفر ہے،آدمی اس سے کافر ہوجاتا ہے؛لہذاصورتِ مسئولہ میں اُس شخص پر واجب ہے کہ کلمۂ شہادتین پڑھ کراپنےایمان کی تجدیدکرےاورآئندہ ایسا کرنے سےمکمل پرہیز کرے، اوراگر شادی شدہ ہو تو گواہوں کی موجودگی میں مہرمقرر کرکے تجدیدِ نکاح بھی کرے۔

مسلم قال : أنا ملحد يكفر ولو قال : ما علمت أنه كفر لا يعذر بهذا. )الفتاوى الهندية كتاب السير: الباب التاسع في أحكام المرتدين  : ۲؍٢٧٩ )

قال في البحر و الحاصل أن من تكلم بكلمة الكفر هازلا أو لاعبا كفر عند الكل ولا اعتبار باعتقاده كما صرح به قاضي خان في فتاويه ومن تكلم بها مخطئا أو مكرَها لا يكفر عند الكل ومن تكلم بها عالما عامدا كفر عند الكل .(الدر المختار مع رد المحتار، كتاب الجهاد باب المرتد:۴؍ ۲۲۴)

تثبت أي الردة بالشهادة ويحكم بها حتى تبين زوجته منه ويجب تجديد النكاح. (البحر الرائق كتاب السير : باب أحكام المرتدين :۱؍۱۳۷)

(مستفاد: محمودالفتاویٰ : ۱؍۳۸۴، ۳۴۵،فتاویٰ عثمانی :۱؍۷۹، ۸۰)