قرآن مجید Fatwa No: 52
سجدۂ تلاوت کی قضا

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

اگر کوئی سجدہ کی آیات پڑھنے کے بعد کسی وجہ سے سجدہ کرنا بھول گیا اور بعد میں یاد آ یا تو وہ کیسےقضا کرے؟ کیا سجدۂ تلاوت  نہ کرنے پر گناہ ہوگا؟

الجواب وباللہ التوفیق :

سجدۂ تلاوت واجب ہے، فوری طور پر سجدہ کرنا مستحب ہے ، بلاعذر تاخیر مکروہ ہے،لہذااگرکسی کے ذمہ بہت سے سجدۂ تلاوت  ہوں،تووہ  بلاتعیین سجدہ کرتا رہے،یہاں تک کہ اس  کا دل مطمئن ہوجائے  کہ اب اس کے ذمہ کوئی سجدہ باقی نہیں رہا؛اسی لیے فقہا ء نےلکھا ہے کہ تلاوت کے بعدفوراًسجدہ کر لیا جائے ، ورنہ بھول جانے کا اندیشہ ہے، جس سے واجب ذمہ میں رہ جائےگا اور گنہگار ہوگا۔ (مستفاد:فتاوی محمودیہ:۷؍۴۷۰،۴۶۹)

قوله: على التراخي عندالإمام يجب على الفور إن لم تكن وجب بتلاوته في الصلاة لأنها صارت جزءًا من الصلاة لا يقضي خارجها فتجب فورية فيها وغيرها تجب موسعا و لكن كره تأخيره السجود عن وقت التلاوة في الأصح إذا لم يكن مكروها لأنه بطول الزمان قد ينساها فيكره تأخيرها تنزيها. (حاشية الطحطاوي على مراقی الفلاح، کتاب الصلاة، باب سجود السهو، ص : ۴۸۰ )