سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
(۱) سر اور داڑھی کے بال سفید ہونے کے بعد ان
کو رنگنا شرعاً کیسا ہے؟ (۲) کیا
بالوں کو کالے رنگ سے رنگنا جائز ہے یا نہیں؟(۳) اگر کالا رنگ ناجائز یا مکروہ ہے تو کون سا رنگ
استعمال کرنا بہتر اور سنت ہے؟ (۴) کیا مرد اور عورت دونوں کے لیے اس کا حکم یکساں
ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق :
(۱)سر اور داڑھی کےسفید
بالوں میں سرخ یا کوئی اور خضاب لگانا افضل ومستحب ہے۔(۲)سیاہ(کالا)خضاب
لگانا مکروہ تحریمی ہے۔(۳) سرخ مہندی کا استعمال بہتر
ہے۔(۴)مرد و عورت خواہ جوان ہوں یا بوڑھے دونوں حکم میں یکساں ہیں۔
عن شرح المشارق للأکمل:والثاني أن الخضاب أفضل أم
ترکہ؟ قال بعضہم: ترکہ للنہي عن تغییر الشیب وقال آخرون: الخضاب افضل؛ لأن جماعة
من الصحابة رضي اللہ عنہم خضبوا کان أبوبکر رضي اللہ عنہ یخضب الحناء وبعضہم کان یخضب
بالزعفران روي ذلک عن علي رضي ا للہ عنہ و مذہبنا أن الصبغ بالحناء والوسمة حسن کما
في الخانیة․
قال النووي: ومذہبنا استحباب خضاب الشیب للرجل
والمرأة بصفرة أو حمرة وتحریم خضابہ بالسواد علی الأصح؛لقولہ علیہ السلام:غیّروا
ہذا الشیب واجتنبوا السواد․
(حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار:کتاب
الخنثی، مسائل شتی ۱۲؍۴۴۶،۴۴۷
،دارالکتب العلمیۃ ،بیروت )

