سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
(۱)نمازِ وتر کی تیسری رکعت میں دعائے قنوت پڑھے بغیر بھول کر رکوع میں چلا جائے تو اس کا کیا حکم ہے؟ (۲) رکوع کے بعد کھڑے ہوکر دعائے قنوت پڑھنا احناف كے نزديك درست ہے یا نہیں؟براہِ کرم جواب عنایت فرمائیں ۔
محمد طلحہ زیب آمبور
الجواب وباللہ التوفیق :
(۱) وتر کی تیسری رکعت میں رکوع سے
پہلے دعائے قنوت واجب ہے،اگرکوئی دعائے قنوت پڑھے بغیر بھول کر رکوع میں چلا جائے تو
سجدۂ سہو واجب ہوگا،لہذارکوع میں چلےجانے کے بعدواپس نہ لوٹے بلکہ نمازمکمل
کرکے قعدۂ اخیر ہ میں سجدۂسہو کرلے،اس کی
تلافی ہوجائے گی۔(۲) احناف
كے نزديک دعائے قنوت رکوع سے پہلے پڑھنی چاہئے نہ کہ رکوع کے بعد ۔
(۱) و يجب قراءة قنوت الوتر عند أبي حنيفة. (مراقي
الفلاح:۹۵) إن ترك
القنوت ساهياً ثم يتذكر بعدما يركع أو يسجد
وفي هذه الصورة لا يعود إلى القيام ولا يقنت بل يمضي في صلاته ويسجد للسهو في آخره.
(المحيط البرهاني:
۱؍۵۰۴)
(۲) عن عاصم الأحول قال: سألت أنس بن مالك رضي اللہ عنه عن القنوت في الصلاة؟ فقال: نعم فقلت: كان قبل الركوع أو بعده؟ قال: قبله قلت: فإن
فلانا أخبرني عنك أنك قلت بعده قال: كذب إنما قنت رسول اللہ ﷺ بعد الركوع شهرا: أنه
كان بعث ناسا يقال لهم القُرّاء وهم سبعون رجلا إلى ناس من المشركين وبينهم وبين
رسول اللہﷺ عهد قِبلهم فظهر هؤلاء الذين كان بينهم وبين رسول اللہ ﷺ عهد فقنت رسول
اللہ ﷺ بعد الركوع شهرا يدعو عليهم. (صحیح البخاری ،رقم : ۴۰۹۶، کفایت المفتی :۴؍۵۰۴)

