حج وعمرہ Fatwa No: 49
عورت کا نامحرم کے ساتھ سفر ِحج وعمرہ کرنا

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

 (۱) اگر کوئی بیوہ عورت اپنے کسی نامحرم مرد اور اس کی بیوی کے ساتھ عمرہ کے سفر پر جانا چاہے تو شریعت کی روشنی میں اس کا کیا حکم ہے؟ (۲)اگر وہ بیوہ عورت اور نامحرم دونوں ادھیڑ عمر کے ہوں اور بظاہر کسی فتنے یا فساد کا اندیشہ نہ ہو، تو کیا اس صورت میں بھی یہی حکم ہوگا یا کوئی رعایت ہے؟ (۳)لیکن اگر وہ بیوہ عورت اور نامحرم دونوں نوجوان ہوں تو کیا حکم ہے؟ (۴)مزید یہ کہ اگر کوئی عورت بیوہ یا بے سہارا ہے اور اس کا کوئی محرم موجود نہیں ہے تو وہ فرض حج یا عمرہ کیسے ادا کرے؟ کیا اس کے لیے کوئی شرعی گنجائش ہے یا پھر اس سے فریضہ ساقط ہوجاتا ہے؟ برائے کرم رہنمائی فرمائیں۔

الجواب وباللہ التوفیق :

 (۳-۱)عورت کے لیے بغیر شرعی محرم کے سفرکرنا خواہ حج کا ہو یا عمرہ کا،  اور خواہ تنہا سفر کرے  یا عورتوں کے قافلے کے ساتھ ، خواہ عورت جوان ہو یا بوڑھی اور نامحرم ادھیڑ عمر کا ہو یا بوڑھا کسی بھی حالت میں سفر جائز نہیں ہے۔حدیث شریف میں ہے:لاَ يَحِلُّ لاِمْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ تُسَافِرُ مَسِيرَةَ ثَلاَثِ لَيَالٍ إِلاَّ وَمَعَهَا ذُو مَحْرَمٍ.یعنی جو عورت اﷲ اور قیامت کے دن پر یقین رکھتی ہو  اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ محرم کے بغیر تین رات کا سفر کرے۔(صحیح مسلم ،کتاب الحج، باب سفر المرأة مع محرم إلى حج وغيره، رقم:۳۳۲۴)

(۴) اور جو عورت بیوہ یا بے سہارا ہو اور اس کا کوئی محرم نہ ہو تو ایسی عورت پر خود حج کرنا فرض نہیں ہے بلکہ اس پر حج بدل یا حج کی وصیت کرنا ضروری ہے۔

ففي الفتاوى الهندية في شرائط الحج: وَمِنْهَا الْمَحْرَمُ لِلْمَرْأَةِ شَابَّةً كَانَتْ أَوْ عَجُوزًا ... ....وَوُجُودُ الْمَحْرَمِ لِلْمَرْأَةِ شَرْطٌ لِوُجُوبِ الْحَجِّ أَمْ لِأَدَائِهِ،بَعْضُهُمْ جَعَلُوهَا شَرْطًا لِلْوُجُوبِ وَبَعْضُهُمْ شَرْطًا لِلْأَدَاءِ، وَهُوَ الصَّحِيحُ.( الفتاوى الهندية : ۱؍۲۸۲،کتاب المسائل: ۳؍۸۹)