سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
میں اپنے بچوں کو نماز سکھانے
کے لیے تھوڑی بلند آواز سے نماز پڑھ سکتی ہوں؟ کیا اس سے میری نماز پوری ہو جائے گی؟
فرض نماز اور وتر کی طرح عورتوں کو آہستہ آوازمیں نماز پڑھنے کا حکم کیوں دیا گیا
ہے؟
الجواب وباللہ التوفیق :
بلند آواز سے نماز پڑھنے
سے نماز مکروہ ہوتی ہے، اس سے احتیاط کریں،البتہ
نمازکےباہربطورِتعلیم تھوڑی بلندآوازسےپڑھ کربچوں کو سکھا سکتی ہیں۔
واضح
رہےکہ شریعت میں بلند آواز سےنمازپڑھنے کا حکم رات کے نوافل اور فرض کی جہری
نمازوں میں صرف مردوں کے لئے ہے،عورتوں کے لئے بلندآوازسےنمازپڑھنے کی نہ فرائض میں
اجازت ہے نہ واجبات اورنوافل میں۔
ولاتجہر فی الجہر
یۃبل لوقیل فی الفساد بجہرھا لامکن بناء علی ان صوتھا عورۃ.(ردالمحتار ۱۸۷/۲)لا نجیزلھن رفع اصواتھن
ولاتمطیطھا و لا تلینھا و تقطیعھا لما فی ذلک من استمالۃ الرجال الیھن وتحریک
الشہوات منھن .(منحۃ الخالق ،
زکریا:۴۷1؍۱)
( مستفاد : فتاویٰ قاسمیہ ٣١٢؍٧ ،
فتاویٰ دار العلوم دیوبند ٢٦٧؍٣)

