قرآن مجید Fatwa No: 154
قرآن ِکریم حفظ کرکےبھول جانے والے کا حکم

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

                  حافظِ قرآن قرآنِ مجیدکویادکرنےکےبعدبھول جائےتواس کی کیا سزابیان کی گئی ہے،براہِ کرم جواب دےکرنوازش فرمائیں؟

الجواب وباللہ التوفیق :

قرآنِ مجیدیادکرنےکےبعدسستی اور کاہلی کی وجہ سے بھولنےپرحدیث شریف  میں سخت وعیدیں بیان ہوئی ہیں،اللہ کے رسول ﷺ نے ارشاد   فرمایا :  جو شخص قرآن کریم  پڑھ  کر  بھول جائے  وہ  قیامت کےدن اللہ تعالیٰ سے اِس حال میں  ملاقات کرےگاکہ  اُس کا ہاتھ کٹاہوا ہوگا۔( ابوداوٴد : ۱۴۷۴)

ایک اورحدیث  میں نبیٔ اکرمﷺنے فرمایا:میرے  سامنے میری اُمت کے  اَجر و ثواب پیش  کیے گئےیہاں تک کہ وہ کوڑا(کچرا)بھی( اجرثواب کے اعتبار سے  پیش کیاگیا )جو آدمی مسجد سے نکال پھینکتا ہے، اور مجھ پرمیری اُمت کےگناہ پیش کیےگئےتو میں نےاِس سے بڑاکوئی گناہ نہیں دیکھاکہ قرآن کی  کوئی سورت یا کوئی آیت کسی آدمی کو  (یاد کرنے کی توفیق) دی گئی،پھر اس نے اسے بھلا دیا۔ (ابوداوٴد : ۴۶۱)

اس  و عید کا مصداق وہ شخص  ہےجوپوراقرآن یا چندسورتیں یاپارے  یادکیاہواہوپھرایسا بھول جائے کہ قرآنِ پاک کو دیکھ کر بھی نہ پڑھ سکے۔

عن سعد بن عبادة قال : قال رسول اللہ ﷺ:ما من امرئ يقرأالقرآن ثم ينساه إلا لقي اللٰٓه يوم القيامة أجذم. (سنن ابی داؤد : ۱۴۷۴)

وروی عنہ انہ ﷺعرضت علي أجور أمتي حتى القذاة يخرجها الرجل من المسجد، وعرضت علي ذنوب أمتي فلم أر ذنبا أعظم من سورة من القرآن، أو آية أوتيها رجل ثم نسيها.(سنن ابی داؤد : ۴۶۱)

إذا حفظ الإنسان القرآن ثم نسيه فإنه يأثم، وتفسير النسيان أن لا يمكنه القراءة من المصحف. (الفتاوى الهندية : ۵؍۳۱۷)

وقالت الحنفية: نسيانه كله أو بعضه ولو آية كبيرة. (تعلیق بذل المجهود: ۱۸۵٫۳)(مستفاد: فتاوی عثمانی: ۱؍۲۲۵، فتاوی قاسمیہ : ۳؍۵۹۲ )