کسی عذرکی وجہ سےکھڑے ہوکر پیشاب کرنا

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

                                                           کیاکسی عذرکی وجہ سےکھڑےہوکرپیشاب کرناجائز ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق :

اسلام میں بیٹھ کرپیشاب کرنےکی تاکیدکی گئی ہے  اوراللہ کے رسول ﷺ  کامعمول  بھی بیٹھ کر ہی پیشاب کرنےکاتھا،نیزآپ ﷺ نے امت کو کھڑے ہوکرپیشاب کرنے سےمنع فرمایا ہے، اسی لئے فقہاء کرام نےبغیرکسی عذرکےکھڑےہوکر پیشاب کرنےکومکروہ قرار دیا ہے ، البتہ اگرکسی عذر کی وجہ سے بیٹھنا دشوار ہومثلاًکمر میں یا  گھٹنے میں شدید دردہو توپیشاب کی چھینٹوں سےبچتے ہوئے کھڑے ہوکرپیشاب کرنے کی گنجائش ہے۔  

عن عائشة ؓقالت: من حدثکم أن النبی ﷺکان یبول قائمًا، فلا تصدقوه، ما کان یبول إلا قاعدًا.(سنن الترمذي:۱؍۹)

عن عمر رضی اللہ عنہ قال: راٰني النبی ﷺ أبول قائمًا، فقال: یا عمر! لا تبل قائمًا فما بُلتُ قائمًا بعد.(سنن الترمذيؒ:۱؍۹)

ويكره أن يبول قائما أو مضطجعا أو متجردا عن ثوبه من غير عذر فإن كان بعذر فلا بأس به.(الفتاوىٰ الهندية :۱؍۵۰)