کسی کے انتقال پر غم منانے کی مدت

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

(الف) کیا کسی قریبی رشتہ دار کے انتقال پر ۴۰؍ دن تک سوگ منانا جائز  ہےیاصرف ۳؍دن؟

(ب)   اگرنکاح کی تاریخ طےہوجائے اور اس سے پہلےدلہا یادلہن کےخالویاماموں  وغیرہ کا انتقال ہوجائے،توکیامامی یاخالہ کی عدتِ وفات (۴ ماہ ۱۰ دن)ختم ہونےتک شادی کومؤخرکرنا ضروری ہے؟

(ج)   اگر دلہایادلہن کےوالدکاانتقال ہوجائے تو کیا۴۰؍دن سے  پہلےنکاح کرنا گناہ  ہے؟

(د) وفات کی عدت گذارنےوالی عورت ، کیا اپنے ہی گھرمیں شادی کی تقریب  ہوتو اس میں شرکت کرسکتی ہے۔

الجواب وباللہ التوفیق :

 (الف)کسی قریبی رشتہ دار کےانتقال پر عورت کوصرف تین دن سوگ منانے کی اجازت ہے ،البتہ اپنےشوہرکے انتقال پرچار مہینےدس دن تک عدت میں رہنا اورسوگ مناناعورت پرواجب ہے ،لہذا  چالیس دن کاکوئی اعتبارنہیں۔

(ب) بغیرکسی معقول وجہ کےعدت کے ختم تک شادی کو مؤخر کرنا شرعاًغلط ہے۔

(ج) بالکل گناہ نہیں،البتہ نظم وانتظام میں دشواری پیش آرہی ہوتو حسبِ  مصلحت کچھ تقدیم تاخیر  کی پوری گنجائش ہے۔

(د)  اگرمعتدہ کےگھرکےاندرشادی کی تقریب ہو رہی ہوتوزیب و زینت اور بناؤ سنگھار سےمکمل پرہیز کرتے ہوئے وہ شادی کی تقریب میں  شرکت کرسکتی ہے۔

عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ أَخْبَرَتْهُ قَالَتْ:دَخَلْتُ عَلَى أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ تُحِدُّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا. (صحيح البخاري ،رقم :۱۲۲۲،دار ابن كثير، دمشق)

ويباح الحداد على قرابة ثلاثة أيام فقط. (الرد مع الدر :۳؍۵۳۳)  

الحداد:الاجتناب عن الطيب والدهن والكحل والحناء والخضاب ولبس المطيب والمعصفر والثوب الأحمر وما صبغ بزعفران إلا إن كان غسيلا لا ينفض ولبس القصب والخز والحرير ولبس الحلي والتزين والامتشاط كذا في التتارخانية.( الفتاوى الهندية:۱؍۵۳۳)

وتعتدان أي معتدة طلاق وموت في بيت وجبت فيه ولا يخرجان منه إلا أن تخرج أو يتهدّم المنزل أو تخاف انهدامه أو تلف مالها أو لا تجد كراء البيت ونحو ذلك من الضرورات.(الدر المختار :۲۵۰)