زکاة و صدقات کے احکام
Fatwa No: 148
پہلے زکوۃ ادا کریں یا عمرہ
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
ایک شخص كےذمے پچھلے سال کی زکوۃ ہے اوراس کاادائیگی
کا ارادہ بھی ہے، مگروہ پہلےعمرہ
کرنا چاہتا ہے ،اب وہ شخص پہلےعمرہ ادا کرے یا زکوٰۃ ؟
الجواب وباللہ التوفیق :
صورتِ مسئولہ میں اُس شخص پر پہلےزکوٰۃکی ادائیگی ضروری
ہے ،عمرہ کی وجہ سے زکوٰۃ کی ا دائیگی میں تاخیرکرنادرست نہیں ،کیونکہ زکوۃ فرض
ہے ،جبکہ عمرہ سنت ہے۔
وافتراضها عمری وقیل فوری ای
واجب علی الفور وعلیه الفتوی کما فی شرح الوهبانیة فیأثم بتأخیرها بلا عذر وترد
شهادته. (الدر
المختار :۱۲۸)
وتجب علی الفور عند تمام الحول حتی یأثم بتأخیره من غیر عذر.(الفتاوىٰ الهندیة : ۱؍ۢ۱۷۰)
قوله: وهي سنة أي العمرة سنة مؤكدة وهو الصحيح في المذهب.(البحرالرائق:۳؍۶۳)

