بے وضواورجوتےپہن کرقرآن پڑھنا

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

(الف) کیابے وضو  ہونے کی حالت میں قرآن کو چھوئے بغیرقرآن کی تلاوت کرسکتے ہیں ؟ (ب)  نیزدفتر یا سفرمیں  جوتے پہن کرکیاقرآنِ پاک  پڑھ سکتےہیں؟

الجواب وباللہ التوفیق :

(الف) ہاں!قرآن  کوہاتھ  لگائے بغیر بے وضو ہونے کی حالت میں  قرآن  پڑھ  سکتے ہیں ، البتہ  باوضوقرآن پڑھنا افضل ہے۔

(ب) ہاں! دفتریاسفروغیرہ میں اگرجوتےپرکوئی گندگی اورنجاست نہ ہوتواس کو پہن کر قرآنِ پاک کی  تلاوت کرنادرست ہے،البتہ عام حالتوں میں جوتے اتاکرقرآنِ کریم  پڑھنا  چاہئے، تاکہ  بےادبی نہ ہوسکے۔

وذكر أن محل الكراهة إذا كان قريبا منه،  أما إذا بعد عنه بالقراءة  فلا كراهة.( رد المحتار:۲؍۱۹۴)

رجل أراد أن يقرأ القرآن فينبغي أن يكون على أحسن أحواله يلبس صالح ثيابه ويتعمم ويستقبل القبلة؛ لأن تعظيم القرآن والفقه واجب، كذا في فتاوى قاضي خان. (الفتاویٰ الہندیۃ :۵؍۳۱۶) (مستفاد:فتاویٰ قاسمیہ:۳؍۵۷۵)