سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
میں نے اسوۂ رسولِ اکرم ﷺ نامی کتاب میں پڑھاہےکہ امام کو چاہیے کہ ہلکی نماز پڑھائے توسوال یہ ہے
کہ وقت کے اعتبار سے ہلکی نماز پڑھانے کی مقدار کیا ہےیعنی امام کوفرض نماز کتنےمنٹ
میں پڑھانا چاہیے؟
الجواب وباللہ التوفیق :
شریعت میں
جماعت کےساتھ نمازادا کرنے کے سلسلے میں جو ہدایات دی گئی ہیں؛اُن میں سے ایک یہ
ہےکہ امام عام مقتدیوں کی
رعایت کرتےہوئے نماز پڑھائے،نہ اتنی لمبی کہ مقتدی حضرات اُکتا جائیں اورنہ اتنی
مختصرکہ نمازسنت کے خلاف ہوجائے،حدیث میں ہے کہ جو شخص امام ہووہ ہلکی نماز پڑھائے؛
کیونکہ مقتدیوں میں کوئی کمزور،کوئی بیماراورکوئی حاجت مند ہوگا،اورنبی کریمﷺ سے بعض
اوقات مقتدیوں کی رعایت میں مختصر سی سورتیں پڑھنا بھی ثابت ہے۔
لہذاامام کونمازکےآداب وسنن اور مسنون قرأت کےساتھ عام نمازیوں کا خیال رکھتے
ہوئےنمازپڑھانی چاہئے،اس کےلئے وقت اورمنٹ کی تحدید کرنا نامناسب معلوم ہوتاہے۔
عَنْ
أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللہ ﷺ: إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ لِلنَّاسِ
فَلْيُخَفِّفْ؛ فَإِنَّ مِنْهُمُ الضَّعِيفَ وَالسَّقِيمَ وَالْكَبِيرَ، وَإِذَا
صَلَّى أَحَدُكُمْ لِنَفْسِهِ فَلْيُطَوِّلْ مَا شَاءَ.
(صحیح البخاري،رقم :۶۷۱)
عن أَنَسَ
بنَ مالِكٍ يَقُولُ: ما صَلَّيْتُ وَراءَ إِمامٍ قَطُّ، أَخَفَّ صَلاةً وَلا
أَتَمَّ مِنَ النَّبِيِّ ﷺ وَإِنْ كَانَ لَيَسْمَعُ بُكاءَ الصَّبِيِّ
فَيُخَفِّفُ؛ مَخافَةَ أَنْ تُفْتَنَ أُمُّهُ.(صحیح
البخاري،رقم :۷۰۸)
قوله: وتطويل الصلاة أي وكره للإمام
تطويلها للحديث: إذا أمّ أحدكم الناس فليخفف. (البحرالرائق :۳؍۴۰۶، بیروت)

