سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
آج کل بہت سے نوجوان اکژ مسجدوں میں بغیرٹوپی کے ننگےسر نماز پڑھتے ہیں،کیااُن
کایہ عمل درست ہے، ایک صاحب کہنےلگےکہ حضرت
محمد ﷺ نےبھی بغیر ٹوپی کےنمازپڑھی ہے اور مسجدِحرام میں بھی ٹوپی نہیں پہنتے،انہوں
نے بہت سی حدیث کے حوالےبھی دیئے، عاجزانہ درخواست ہے کہ شریعت کی روشنی میں رہبری
فرما ئیں۔
الجواب وباللہ التوفیق :
ٹوپی، عمامے یا رُومال سے سر
ڈھانکنا مسنون اور اسلامی شعائرمیں سےہے،
اس سے مسلمانوں کی شناخت ہوتی ہے،نیز صراحت کے ساتھ نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام رضی
اللہ عنہم سے ٹوپی پہننا ثابت ہے۔
چنانچہ
سنن ابی داؤد کی حدیث میں حضرت وائل بن حجررضی اللہ عنہ نے صحابہ کے اوپر چادراور
ٹوپیاں ہونے کاذکر کیا ہے، حدیث کے الفاظ ہیں:
عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ قَالَ
رَأَيْتُ النَّبِيَّ ﷺ حِينَ افْتَتَحَ الصَّلوٰةَ رَفَعَ يَدَيْهِ حِيَالَ
أُذُنَيْهِ- قَالَ- ثُمَّ أَتَيْتُهُمْ فَرَأَيْتُهُمْ يَرْفَعُونَ أَيْدِيَهُمْ
إِلَى صُدُورِهُمْ فِي افْتِتَاحِ الصَّلوٰةِ وَعَلَيْهِمْ بَرَانِسُ
وَأَكْسِيَةٌ. (سنن ابی داود، رقم الحدیث:۷۲۸)
ٹوپی
نبی کریمﷺکے زمانے میں بھی مسلمانوں کے لباس کا جز تھی، چنانچہ صحیح بخاری کی حدیث
میں ہے کہ محرم شخص حالتِ احرام میں قمیص، عمامے، پائجامے ، ٹوپیاں اور موزے نہ
پہنے، حدیث کےالفاظ ہیں:لاَ يَلْبَسُ الْقُمُصَ وَلاَ الْعَمَائِمَ وَلاَ السَّرَاوِيلاَتِ وَلاَ
الْبَرَانِسَ وَلاَ الْخِفَافَ....(صحیح بخاری ،رقم الحدیث:۱۵۴۲)
ترمذی
شریف کی روایت ہے کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ
ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: شہداء چار ہیں: ایک وہ مؤمن بندہ جس کا ایمان عمدہ ہو، دشمن
سے مڈبھیڑ کے وقت اللہ سے کیا ہوا وعدہ سچا کردکھائے یہاں تک کہ قتل کردیا جائے، یہ
وہ شہید ہےکہ قیامت کے دن لوگ اس کی طرف اپنی نگاہیں اٹھائیں گے اس طرح، چناں چہ
آپ نے اپنا سر اٹھایا (اوراُوپر دیکھا)یہاں تک کہ آپ کی ٹوپی گرگئی۔ راوی کہتے ہیں
کہ مجھے نہیں معلوم کہ حضرت فضالہ کی مراد حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی ٹوپی ہے یا
رسول اللہ ﷺ کی ٹوپی۔
حدیث کے الفاظ ہیں:عَنْ أَبِي يَزِيدَ الْخَوْلاَنِيِّ أَنَّهُ سَمِعَ فَضَالَةَ بْنَ عُبَيْدٍ يَقُولُ سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺيَقُولُ: (الشُّهَدَاءُ أَرْبَعَةٌ رَجُلٌ مُؤْمِنٌ جَيِّدُ الإِيمَانِ لَقِيَ الْعَدُوَّ فَصَدَقَ اللہَ حَتَّى قُتِلَ فَذَلِكَ الَّذِي يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ أَعْيُنَهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ هَكَذَا). وَرَفَعَ رَأْسَهُ حَتَّى وَقَعَتْ قَلَنْسُوَتُهُ. قَالَ فَمَا أَدْرِيْ أَقَلَنْسُوَةَ عُمَرَ أَرَادَ أَمْ قَلَنْسُوَةَ النَّبِيِّﷺ.(سنن الترمذی ، رقم :۱۷۴۵)
خیردونوں
صورتوں میں (خواہ آپ ﷺ کی ٹوپی مراد ہو یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی) ٹوپی کا ثبوت
واضح طور پر ہوتاہے۔لہذاننگےسر رہنا اور ننگے سر نماز پڑھنا خلاف سنت اور مکروہ
ہے ، اورمکروہ کےارتکاب سے ثواب میں کمی ہوجاتی ہے؛ البتہ احرام کی حالت میں چوں کہ
زیب وزینت ممنوع ہے،اوراظہارِتضرع وعاجزی مطلوب ہے ،اس لیےاحرام میں سرڈھانپنامنع
ہے۔ الغرض ننگے سر رہنےاور نماز پڑھنے کو
سنت سمجھنا اور ٹوپی پہننے کو بدعت سمجھنا بالکل غلط ہے؛بلکہ ننگےسرنمازپڑھنا غیروں
کی مشابہت اور ان کی تہذیب کی نقالی ہے، مذکورہ روایات سے معلوم ہوا کہ ہمارےنبی ﷺکی
طرف ٹوپی نہ پہننےکی نسبت قطعاً بےبنیادہے،اللہ تعالیٰ انہیں صحیح سمجھ عطا فرمائے۔آمین
کرہ كفه وعبثه به.......وصلاته حاسرا أي كاشفا رأسه للتكاسل. قال
الشامي :قوله للتكاسل أي لأجل الكسل، بأن استثقل تغطيته ولم يرها أمرا مهما في
الصلاة فتركها لذلك وهذا معنى قولهم تهاونا بالصلاة وليس معناه الاستخفاف بها
والاحتقار لأنه كفر،شرح المنية.(حاشیۃ ابن عابدین:۴؍۱۴۰،فرفور)
مزید تفصیلات اور حوالوں کے لیے مفتی رضوان صاحب اور مفتی احمد اللہ نثار صاحب
قاسمی کی کتابیں ”ٹوپی کی شرعی حیثیت“ کامطالعہ مفید ہوگا۔فقط واللہ تعالیٰ اعلم
بالصواب۔

