کتےکاتھوک یااُس کابدن کپڑےکولگ جائے

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

 کتے کاتھوک یا اُس کابدن اگرکپڑےکولگ جائے تو کیا کپڑا ناپاک ہو جائے گا اور کیااُس کپڑے  میں نمازدرست ہوجائےگی؟

الجواب وباللہ التوفیق :

  کتے کاتھوک نجاستِ غلیظہ ہے، لہذا اگرکتے کاتھوک  ایک درہم  ( ہتھیلی کے گڑھے یعنی  5،95 سینٹی میٹر) کےبرابریا اُس سےکم بدن اورکپڑےوغیرہ  کولگے تو کراہتِ تنزیہی کے ساتھ  نماز ادا  ہوجائےگی،  اور اگرایک  درہم سے زیادہ مقدار لگ جائے تو بدن  اورکپڑا  ناپاک ہوجائے  گا،  اور  دھوئےبغیر اُس کپڑے میں نمازبھی  جائز نہیں ہوگی۔

اگرکتاکےبدن پر ظاہری نجاست نہ ہواور وہ کسی کےبدن یاکپڑے  سے لگ جائےتواس سے بدن اورکپڑےخراب نہیں ہوں گے، لہذا بدن اورکپڑادھوناضروری  نہ ہوگا۔

وسؤر الكلب والخنزير وسباع البهائم نجس.(الفتاوىٰ الهندية :۱؍۱۰۹)

والأصح أنه إن كان فمه مفتوحا لم يجز؛ لأن لعابه يسيل في كمه فينجس لو أكثر من قدر الدرهم.(ردالمحتار :۱؍۲۰۸، دار الفكر ،بيروت)

إذا نام الکلب علی حصیر المسجد إن کان یابسا  لا یتنجس وان كان رطبا ولم ير أثر النجاسة فكذٰلك.(الفتاویٰ التاتاخانية:۱؍۴۳۹) (مستفاد:فتاویٰ دارالعلوم دیوبند:۱؍۴۴۲، آپ کے مسائل اوران کاحل :۳؍۱۷۳،احسن الفتاویٰ :۲؍۸۹)