سودی رقم کا مصرف

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

میرے Saving Accountمیں بینک کی طرف سے ہر تین ماہ بعدسودی رقم جمع ہوجاتی ہے،میرے لئے اُس رقم کااستعمال جائز ہے یا نہیں اورکیاوہ سودی رقم کسی غریب رشتہ دارکودی جا سکتی ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق :

 آپ کے لئے اُس سودی رقم کا استعمال  جائز نہیں ہے،ہاں آپ اپنےکسی  غریب ومحتاج رشتہ دارکوسودی رقم  ثواب کی نیت کےبغیردےسکتےہیں۔

وقال البنوري: قال شیخنا: ویُستفادُ من کتب فقہائنا کالہدایة وغیرہ: أن من ملَکَ بملکٍ خبیثٍ، ولم یمکنہ الردُّ إلی المالک، فسبیلہ التصدق علی الفقراء ... والظاہرُ أن المتصدق بمثلہ ینبغي أن ینوي بہ فراغَ ذمتہ ولا یرجو بہ المثوبة، نعم یرجوہا بالعمل بأمر الشارع، وکیف یرجو الثوابَ بمال حرام ویکفیہ أن یخلص منہ کفافًا رأسًا برأس. (معارف السنن: ۱؍۳۴دار الکتاب، دیوبند)(مستفاد: فتاویٰ محمودیہ، ڈابھیل: ۱۶؍ ۳۸۱،منتخب فتاوی دارالعلوم دیوبند:۴۰۸)