کعبہ کی تصویر والی جائےنمازکاحکم

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

 آج کل بہت سے مصلّوں (جائے نمازوں )  پر کعبۃ اللہ،مسجدِنبوی ، گنبدِخضراء اورحجر ِاسود کے نقشے بنےہوتےہیں ،کیا اُن مصلّوں پر نمازپڑھنا،اُن  پر پاؤں رکھنا اور منبر وغیرہ پر بچھا کر بیٹھنا جائز ہے۔براہِ کرم تفصیل کےساتھ  جواب عنایت فرمائیں؟

الجواب وباللہ التوفیق :

 جائےنمازپرکعبۃ اللہ،مسجدِنبوی، گنبدِخضراء اور حجر ِاسود وغیرہ کے جو نقشے بنے ہوئے ہوتےہیں؛ان کی ظاہری بے ادبی اورتوہین سے بچتےہوئے نہ اُن پرچلیں اورنہ پاؤں رکھیں ، لیکن اگرانجانے میں اُن پرپاؤں  پڑجائے توکوئی حرج نہیں، نیز ضرورت کےموقع پرمنبروغیرہ پر بچھا کر بیٹھنےکی بھی گنجائش ہے،عموماًسادہ جائے نمازوں کا استعمال بہترہے۔(مستفاد:فتاوی عثمانی: ۱؍۵۱ ، فتاویٰ مفتی محمود :۲؍۷۶۸)