نمازوں کی فدیہ کی مقدار

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

 ایک شخص کی زندگی میں نماز کی قضاء پوری نہیں ہوئی اور اُس شخص کا انتقال ہوگیاتو اس صورت میں ایک وقت کی نمازکے لئے کتنا فدیہ ادا کرنا لازم ہوگا، شریعت کی روشنی میں مدلل جواب ارسال فرمائیں ؟ 

الجواب وباللہ التوفیق :

 ایک وقت کی فرض نمازکا فدیہ؛صدقۂ فطرکی مقدار(آدھا صاع گیہوں یا اس کی قیمت)کےبرابر ہے،جس کاحساب وزن کےلحاظ سے ڈیڑھ کلو 74؍گرام 640؍ ملی گرام ہوتاہے۔(الاوزان المحمودہ ص۱۰۵،فتاویٰ قاسمیہ :۱۱؍۶۰۵)

واضح رہےکہ اگر میت نے وصیت کی ہو تو فدیہ دینا واجب ہے ورنہ وارثین کی طرف تبرع مانا جائے گا۔نیز نمازِوتر ملا کرایک دن کی کل چھ  نمازیں بنتی ہیں، لہذا جتنے دنوں کی نمازیں قضاءہوئی ہیں، ہر دن کی چھ نمازوں کےحساب سےفدیہ اداکریں  

وَلَوْ مَاتَ وَعَلَيْهِ صَلَوَاتٌ فَائِتَةٌ وَأَوْصَى بِالْكَفَّارَةِ يُعْطَى لِكُلِّ صَلَاةٍ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ بُرٍّ كَالْفِطْرَةِ وكذا حُكمُ الوِتْرِ. (الدر مع الرد :۲؍۷۲،دار الفكر بيروت)