عدت كےدوران سفرکاحکم

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

 (الف) میری والدہ کی عدت چل رہی ہے،ہم بھائی بہن  دوسری بستیوں میں رہتے ہیں، والدہ اپنی بستی میں تنہارہتی ہیں، کیا ہم عدت کےدوران اُنہیں اپنےپاس لےآ سکتے ہیں،(ب)  اورکیاعدت کے دوران علاج  معالجہ کےلئےسفرکرنےکی اجازت  ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق :

 (الف) عدت گزارنے والی عورت کے لئے شریعت کا حکم یہ ہے کہ جس مکان میں رہتے ہوئے شوہرکاانتقال ہواہے؛اسی مکان میں وہ عدت پوری کرےاور شدید ضرورت کےبغیراُس مکان سےباہر نہ نکلے،آپ نےسوال میں جوصورت لکھی ہےکہ وہ اپنی بستی میں تنہارہتی ہیں،یہ ایساشرعی عذرنہیں ہےکہ جس کی وجہ سےاُن کےلئےگھرچھوڑنا جائز ہو، لہٰذاآپ کی والدہ کو اپنےشوہرکےمکان ہی میں عدت پوری کرناضروری ہے، عدت  مکمل ہونے سےپہلےآپ کی والدہ کوسفرمیں لےجانےکی اجازت نہیں۔

وتعتدان أي معتدة طلاق وموت في بيت وجبت فيه ولا يخرجان منه إلا أن تخرج أو يتهدَّم المنزل، أو تخاف انهدامه أو تلف مالها أو لا تجد كراء البيت ونحو ذلك من الضرورات فتخرج لأقرب موضع إليه. (حاشية ابن عابدين:۱۰؍۳۶۶،  فرفور) (مستفاد:محمودالفتاویٰ :۵؍۴۲۸،مکتبۂ محمودیہ ڈابھیل)

(ب) عدت گزارنے والی عورت اگرایسی  بیمارہوکہ اپنے علاج کےلئے اپنے شہر یا شہر سے باہرکسی دوسرےشہرجانےکی سخت ضرورت ہوتوشرعاً اس کی اجازت ہے، مگرعلاج کے بعد اپنےگھر لوٹنااوروہیں عدت پوری کرناضروری ہے۔

لا تخرج المعتدۃ عن طلاق و موت إلا لضرورۃ .(حاشیۃ ابن عابدین:۳؍۵۳۶ )

المعتدة من الطلاق لا تخرج من بيتهاليلاً ولانهاراً، فأما المتوفی عنہا زوجھا فلابأس بأن تخرج   في النهار ،في الزاد : وبعض الليل لحاجتها و لاتبيت في غيرمنزلها.(الفتاوي  التارتاخانية :۵؍۲۴۴،زكرياديوبند)  (مستفاد : کتاب النوازل :۱۰؍۲۱۵)