سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
کیابچوں کوروئی کےکھلونے (Soft Toys) مثلاً Teddy bear,Elephant وغیرہ لے کر دے سکتے ہیں،کیا ان کھلونوں کی وجہ سے گھر میں فرشتے نہیں آئیں گے؟
الجواب وباللہ التوفیق :
روئی یا کسی اورچیز سے بنے ہوئے ایسے کھلونے جن کی شکل کسی جاندارسےملتی جلتی ہو، آنکھیں،ناک اور کان صاف ظاہرہوں توایسےکھلونے تصویر اور مجسمہ (Statue)کےحکم میں آتے ہیں، لہذا ایسے کھلونوں کو گھروں میں لانا اوراُن سے بچوں کا کھیلنا ناجائزہے۔
اوراس طرح کےکھلونے گھروں میں رہیں
تو رحمت کےفرشتے بھی داخل نہیں ہوتے، لہذا بچوں کوان کھلونوں کی جگہ غیرجاندارکھلونےدينےچاہئے۔
عَنْ أَبِي طَلْحَةَ ؓقَالَ:قَالَ النَّبِيُّ ﷺ: لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ كَلْبٌ وَلَا تَصَاوِيرُ.(صحیح بخاری:رقم: ۵۶۰۵)
قال أصحابنا وغيرهم من العلماء: تصوير صورة الحيوان حرام شديد التحريم، وهو من الكبائر لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث سواء صنعه في ثوب أو بساط أو درهم أو دينار أو غير ذلك وأما تصوير صورة الشجر والرحل و الجبل وغير ذلك فليس بحرام .(مرقاة المفاتيح :۸؍۳۲۳،نعیمیۃ دیوبند) (مستفاد:نخبۃ المسائل :۴ ؍۳۶۵،مکتبۃ التذکیردیوبند)

