سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
اگرپائجامہ یاپینٹ(Pant)
وغیرہ لمبے ہوں تو نمازمیں اُن کو موڑکر ٹخنوں سے اوپرکرنا ضروری ہے یانہیں،اگرکپڑاموڑناجائزہےتو پھرحدیث میں
کفِ ثوب (کپڑا سمیٹنے) سے جومنع کیا گیا ہے، اس سے کیامرادہے؟
الجواب وباللہ التوفیق :
مردوں کے لئے نماز میں یا نماز سے باہر اپنے کپڑے کو
ٹخنے سےنیچےلٹکاناناجائزاورگناہ ہے ،حدیث میں اِس پرجہنم کی وعید آئی ہے، لہذا پائجامہ
یاپینٹ(Pant) وغیرہ اس طرح پہنناکہ جس سے ٹخنےچھپ جائیں ناجائز ہے،اگرکسی نے ایسا لمباکپڑاپہن رکھاہے تواُس
کے لئے ضروری ہےکہ وہ نیچے سےموڑ کر ٹخنےکھول دے؛ تا کہ کبیرہ گناہ سے بچ جائے۔
اور حدیث میں کفِ ثوب (کپڑاسمیٹنے)سےجومنع کیاگیاہے؛اس سے مراد نمازمیں آستین کوموڑنا یارکوع،سجدہ کرتے ہوئے کپڑے کو سمیٹنایا ٹھیک کرناہے؛ تاکہ اس
پرمٹی وغیرہ نہ لگے؛لہذا یہ کام نماز کےاندرمنع ہے ،نماز سے باہرنہیں۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ: مَا أَسْفَلَ مِنَ الْكَعْبَيْنِ مِنَ الْإِزَارِ فَفِي النَّارِ. ( صحیح البخاری، رقم :۵۷۸۷)
عن أبي جحيفة قال: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ خَرَجَ فِي حُلَّةٍ مُشَمِّرًا فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ إِلَى الْعَنَزَةِ. (صحیح بخاری:رقم: ۵۷۸۶)
قال
الحافظ ابن حجرؒ : قال الإسماعيلي : وهذا هو التشمير، ويوخذ منه أن النهي عن كف
الثياب في الصلاة محله في غير ذيل الإزار ويحتمل أن تكون هذه الصورة وقعت اتفاقاً
فإنها كانت في حالة السفر، وہو محل التشمير.(فتح
الباري:۱۳؍۳۱۴،دار الکتب العلمية بيروت)
وكره كفه
أي رفعه و لو لتراب كمشمر كم أو ذيل (قوله: أي رفعه) أي سواء كان من بين يديه أو
من خلفه عند الإنحطاط للسجود.(حاشیۃ ابن عابدین:۴؍۱۳۷)
(مستفاد: کتاب النوازل :۴؍۱۰۸،۱۱۳)

