سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
مسجدکےاوپریانیچےمکان بنانادرست ہےیانہیں ؟
الجواب وباللہ التوفیق :
جس زمین پر شروع ہی سےمسجد کی بنیاد رکھی گئی ہو؛وہ
جگہ زمین کے نیچے سے لے کرآسمان کی بلندی تک شرعی مسجد کےحکم میں ہے،لہذااُس جگہ ہرقسم
کی عمارت ( دکان مکان وغیرہ) بنانا بالکل جائز نہیں ہے۔
البتہ تعمیرکےشروع
ہی میں واقف نےنیچےمکان اوراوپرمسجدکی نیت کرکے مسجدبنائی ہوتودوشرطوں کےساتھ اس کی
گنجائش ہے،(۱) اس عمارت کو مسجدکی مصلحتوں (مثلاًامام ومؤذن کےلئے گھر کے طور پردیاجائےیااس
عمارت کو کرایہ پردے کروہ کرایہ) مسجد میں خرچ کیا
جائے ،اور (۲) مسجد کی طرح وہ عمارت بھی وقف ہو۔ (مستفاد: محمود الفتاوی: ۶؍۵۷۴)
وکرہ
تحریما الوطء فوقہ والبول والتغوط لانہ مسجد الی عنان السماء بفتح العین وکذا الی
تحت الثری کما فی البیری عن الاسبیجابی.
( حاشیۃ ابن عابدین:۲؍۵۱۶،المکتبۃ الاشرفیۃ
دیوبند)
وإذا کان السرداب أوالعلولمصالح المسجد أو کانا وقفاً علیہ صار مسجداً.( حاشیۃ ابن عابدین :۶؍۵۴۹، المکتبۃ الاشرفیۃ دیوبند)

