نکاح سے پہلے نسبت (منگنی)کا حکم

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

 نکاح سےپہلےنسبت کرناضروری  ہےیاوہ رواجی  رسم ہے؟ 

الجواب وباللہ التوفیق :

نکاح سےپہلےنسبت (منگنی) کوئی ضروری عمل نہیں،نسبت؛محض نکاح کا وعدہ ہےکہ مستقبل میں نکاح کیا جائے گا ،وہ بذات ِ خودنکاح نہیں،لہذا نسبت یعنی منگنی وجہ سےنکاح کے احکام جاری نہیں ہوں گے۔

اِس زمانےمیں  نسبت کی رسم میں بہت سی خرافات  اور غیرشرعی امور شامل ہوچکے ہیں ہیں ؛ مثلاًمیاں بیوی کی طرح اسٹیج پرساتھ بیٹھنا (جبکہ میاں بیوی کااس طرح  ایک ساتھ بیٹھنا بھی سراسر بےحیائی ہے،) آپس میں باتیں کرنا، مصافحہ کرنا، ایک دوسرےکو انگوٹھی پہنانا، ویڈیوز بنانا، تصویریں کھینچنااوراجنبی مردوں اور اجنبی عورتوں کا بےپردگی کےساتھ یا برائےنام پردے کےساتھ ملنا جلناوغیرہ،لہذااگراِن خرافات اور غیرشرعی اُمورسے بچتے ہوئے پوری سادگی اور احکام شریعت کی حفاظت کے ساتھ نسبت کی جائے  تواس کی گنجائش ہے ۔(مستفاد:فتاوی دارالعلوم زکریا:۳؍۵۴۴)