سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
میں اپنی بیوی کو ”اماں “کر کے بلاتا ہوں،اس طرح پیار سے بلاناکیسے ہے؟ اور بیوی
مجھ کو کیسے بلا سکتی ہے یعنی شوہر کو بلانے کا طریقہ کیا ہے،اس سلسلے میں براہِ
کرم رہبری فرمائیں ؟
الجواب وباللہ التوفیق :
شوہر کا اپنی بیوی کو اماں کہہ کر پکارنا شرعاً مکروہ ہے، البتہ ایسا کہنےکی
وجہ سے بیوی پر نہ طلاق واقع ہوگی اور نہ شوہرپرکسی قسم کا کفارہ ہوگا۔
بیوی اپنےشوہرکوہرایسےلفظ سےپکارسکتی ہے جس میں بے ادبی یا گستاخی کا پہلو موجود نہ ہو، مثلاً بال بچوں کی جانب نسبت کرتے ہوئے شوہر کو پکارے یا کسی بھی مناسب لفظ سے شوہرکو خطاب کرے تواس میں کوئی حرج نہیں،البتہ شوہر کا نام لےکربلانابےادبی کی بنا پرمکروہ ہے۔
وَيُكْرَهُ قَوْلُهُ أَنْتِ أُمِّي وَيَا ابْنَتِي وَيَا أُخْتِي وَنَحْوَهُ.وقال الشامي: جَزَمَ بِالْكَرَاهَةِ تَبَعًا لِلْبَحْرِ وَالنَّهْرِ وَاَلَّذِي فِي الْفَتْحِ: وَفِي أَنْتِ أُمِّي لَا يَكُونُ مُظَاهِرًا، وَيَنْبَغِي أَنْ يَكُونَ مَكْرُوهًا.(حاشية ابن عابدين:۳؍۳۷۰، دار الفكر بيروت)
يُكْرَهُ أَنْ يَدْعُوَ الرَّجُلُ أَبَاهُ وَالْمَرْأَةُ زَوْجَهَا بِاسْمِهِ كَذَا فِي السِّرَاجِيَّةِ.(الفتاوى الهندية ۵؍۳۶۲، دار الفكر بيروت)

