قربانی اور عقیقہ کے احکام
Fatwa No: 114
قربانی کے ایام میں جانور ذبح نہیں کیاگیا
سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
ایک صاحب نے قربانی کی نیت سے جانورخریدا، مگرکسی
وجہ سے قربانی نہیں کر پائے؛ اُس جانور کاکیا حکم ہے،کیااس کاگوشت کھاسکتے ہیں ؟
الجواب وباللہ التوفیق :
قربانی کےمخصوص تین دنوں ہی میں قربانی کرنا ضروری ہے، قربانی کےتین دن
گزرجانے کےبعد قربانی کرنا درست نہیں؛لہذا وہ اُس جانورکوزندہ کسی محتاج کوصدقہ کردیں، خود قربانی
کرکے اُس کا گوشت نہ کھائیں،کیونکہ اب وہ واجب قربانی سے صدقہ کی طرف منتقل ہوچکا ہے
۔
لأن الإراقة إنما عرفت قربة في زمان مخصوص...... إذاأوجب شاۃ بعینہا او اشتراہا لیضحی بہا فمضت ایام النحر قبل ان یذبحہا تصدق بہا حیۃ ولا یأکل من لحمہا لأنہ انتقل الواجب من إراقۃ الدم إلی التصدق. (ردالمحتار:۶؍۳۲۱،دار الفكر بيروت)(مستفاد:فتاوی دارالعلوم زکریا:۶؍۴۳۲، کتاب المسائل : ۲؍۲۲۹)

