صرف دسویں محرم کاروزہ رکھنا

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

 عاشوراء کے دن یعنی کیادسویں محرم   کوصرف ایک روزہ رکھنا درست ہے، یا دو روزے  رکھناہی ضروری ہے؟  

الجواب وباللہ التوفیق :

صرف محرم کی دسویں تاریخ کوایک روزہ رکھنایہودیوں کےساتھ مشابہت کی وجہ سے خلافِ افضل ہے، اسی وجہ سے دسویں کےساتھ نویں یا گیارھویں تاریخ کا روزہ رکھنےکی تاکیدآئی ہے، اگرکوئی صرف دسویں محرم کوروزہ رکھےتو کراہت کے ساتھ ادا ہوجائےگا،الغرض دوروزے رکھنا شرعاًمستحب ومستحسن ہے؛واجب و ضروری نہیں۔  

وأما القسم السادس وهوالمكروه فهو قسمان: مكروه تنزيها ومكروه تحريما.الأول الذي كره تنزيها كصوم يوم عاشوراء منفردا عن التاسع أوالحادي عشر.(مراقي الفلاح:۲۳۵، المكتبة العصرية)

وكره بعضهم صوم يوم عاشوراء وحده لمكان التشبه باليهود ولم يكرهه عامتهم، لأنه من الأيام الفاضلة فيستحب استدراك فضيلتها بالصوم. (بدائع الصنائع :۲؍۷۹) (مستفاد: فتاوی محمودیہ  : ۱۰؍۱۹۳)