عمررسیدہ خاتون کوماہواری آنےلگے

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

میری دادی کی عمر ۷۹سال ہے، انھیں اِس عمر میں ہر مہینہ حیض آرہا ہے؛جبکہ بیس پچیس سال پہلے ہی انھیں حیض آنا بند ہو چکا تھا، اب پھر پانچ مہینے سے انہیں حیض آرہا ہے،کیا اس حالت میں نمازاورتلاوت کرنا درست ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق :

 پچپن سال کی عمر کے بعد کسی عورت کو تین سے دس دن تک جوخون آئے،وہ حیض نہیں بلکہ استحاضہ(بیماری کاخون)ہے،البتہ اگرخوب سرخ یا سیاہ خون آئےیاحیض کےزمانےمیں جس رنگ کا خون آتا تھا ویسا ہی آئے توحیض ہے۔

استحاضہ شمارہونےکی صورت میں باوضو ہوکرنمازاورتلاوت کرناجائزہےاورحیض کی حالت میں جائز نہیں  ہے۔

ففي الدر المختار:  وحدَّه في العدة بخمس وخمسين. قال في الضياء: وعليه الاعتماد (وما رأته بعدها) أي: المدة المذكورة (فليس بحيض في ظاهر المذهب) إلا إذا كان دما خالصا فحيض.

وفي رد المحتار: (قوله: وحده) أي: المصنف في باب العدة. ..... قال قاضي خان وغيره: وعليه الفتوى. وفي نكت العلامة قاسم عن المفيد أنه المختار، ومثله في الفيض وغيره. (قوله: أي المدة المذكورة) وهي الخمسون أو الخمسة والخمسون  (قوله: فليس بحيض) ولا يبطل به الاعتداد بالأشهر  (قوله: دما خالصا) أي كالأسود والأحمر القاني، درر. قال الرحمتي: وتقدم عن الفتح أنه لو لم يكن خالصا وكانت عادتها كذلك قبل الإياس يكون حيضا.(حاشية ابن عابدين :۲؍۳۰۹،فرفور و بہشتی زیور:۱۲۸،اسلامک بک سروس)