سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
اگرکوئی غیرمسلم ہمارے سامنے چھینکے تو کیا ہم یَرْحَمُکَ اللہُ کہہ کردعادے سکتے ہیں ؟
الجواب وباللہ التوفیق :
اگر کوئی مسلمان چھینکے اور اس پر الحمدللّٰہ
کہے تو سننے والے پریَرْحَمُکَ
اللہُ کہنا واجب ہے،اور اگرچھینکےوالا الحمدللہ
نہ کہے تو یَرْحَمُکَ
اللہُ نہیں کہاجائےگا، اوراگرکوئی غیرمسلم ہمارے سامنے چھینکے اور الحمدللّٰہ بھی کہےتو يَهْدِيْکُمُ اللہُ وَيُصْلِحُ بَالَکُمْ کہا جائے،حدیث میں ہے کہ یہودی نبی کریم ﷺ کے پاس آکر
چھینکتے اِس اُمید پرکہ آپ انہیں يَرْحَمُکُمُ اللہُ (اللہ تم
پر رحم فرمائیں) کہیں گے؛ لیکن
آپ ﷺ انہیں يَهْدِيْکُمُ اللہُ وَيُصْلِحُ بَالَکُمْ (اللہ تمہیں ہدایت دے اور تمہارے احوال کی اصلاح
فرمائے) کہتے۔ (مستفاد فتاویٰ قاسمیہ :۲۴؍۲۶۸)
عن أبي موسیٰؓ قال: کان الیہود یتعاطسون عند النبيﷺیرجون أن یقول لہم
یرحمکم ﷲ فیقول یہدیکم ﷲ ویصلح بالکم.( سنن الترمذي:رقم الحديث :
۲۷۳۹)
وإنما يستحق العاطس التشميت إذا حمد اللہ تعالى وأما إذا لم يحمد لا يستحق الدعاء لأن العطاس نعمة من اللہ تعالى فمن لم يحمد بعد عطاسه لم يشكر نعمة اللہ تعالى وكفران النعمة لا يستحق الدعاء......وإن كان العاطس كافرا فحمد اللہ تعالى يقول المشمت يهديك اللہ.(حاشية ابن عابدين:۲۲؍۱۲۶،فرفور)

