سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
طواف کے دوران كعبۃ
الله کی طرف سینہ اور پیٹھ کرنا منع ہے،مگر حجرِاسودپرپہنچ کرجب استلام یااستقبال کرتےہیں
تواس کی طرف منہ کرکے استلام کرنا ہے یا اُس
کی طرف مڑےبغیر ہاتھ سے اشارہ کرلیناکافی ہے،جواب دےکر مہربانی فرمائیں؟
الجواب وباللہ التوفیق :
دورانِ طواف بیت اللہ کی طرف سینہ یا پیٹھ کرنا درست نہیں
ہے،مگرحجرِاسودپربیت اللہ اورحجرِاسودکی طرف منہ اورسینہ کرتے ہوئےہی استلام کریں یا
اس کی طرف استقبال(منہ) کرکے تکبیر کہتےہوئے دونوں ہاتھ آگےکریں پھران کوچوم لیں،حجرِ اسود پرصرف ہاتھ سے اشارہ نہ کریں ،ایساکرناخلافِ سنت ہے۔
وكلمامربالحجر في الطواف يستلمه إن استطاع من غير أن يؤذى
احدًا وان لم يستطع يستقبل الحجر ويكبر ويھلل كذافي فتاوى قاضيخان.(الفتاوى الهنديۃ: ۱؍۲۴۹ بیروت)
عن ابن عمر
فقال رایتُ النبی ﷺ يستلمه ويقبله ...(سنن الترمذی:۲۳۳،بیروت)

