سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
عید کی نماز عیدگاہ میں اداکرناضروری ہے یامسجدوں میں
بھی اداکی جاسکتی ہے، خصوصاً عید الاضحیٰ کی نمازعید گاہ کے بجائے اکثر مسجدوں میں
پڑھی جاتی ہے ؟
الجواب وباللہ التوفیق :
عیدین کی نماز عید گاہ میں پڑھنامسنون ہے،آپ ﷺ پابندی کے ساتھ دونوں عیدکی نمازیں عیدگاہ میں ادا فرماتے رہے،صرف ایک مرتبہ بارش کی وجہ سے آپ ﷺنےمسجدمیں نمازِ عیدادافرمائی،لہذامسلسل بارش یاکسی اور عذرسے عیدگاہ میں عیدکی نماز اداکرنا دشوار ہوتو مسجدوں میں نمازِعیداداکرنےکی شرعاً اجازت ہے، اورکسی عذرکےبغیرمسجدوں میں عیدکی نماز اداکرنا خلافِ سنت ہے۔
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الخُدْرِيِّ قالَ: كانَ رَسُولُ
اللہﷺ يَخْرُجُ يَوْمَ الفِطْرِ والأَضْحَى إلى
المُصَلَّى.(صحیح
البخاری: رقم الحديث:۹۵۶ بيروت)
كان ﷺ يصلِّي العيدين في المصلَّى،
وهو المصلَّى الذي على باب المدينة الشرقي، يوضع فيه محملُ الحاجِّ. ولم يصلِّ
العيد بمسجده إلا مرةً واحدةً أصابهم مطر فصلَّى بهم العيد في المسجد.(زادالمعاد:۱؍۵۵۲، دار ابن حزم ،بيروت)
ولو صلی
العید فی الجامع ولم یتوجہ إلی المصلی فقد ترک السنة .(البحرالرائق: ۲؍۲۷۸،دار الكتاب الإسلامي) (مستفاد:فتاوى محموديہ :۸؍۴۱۴،فتاوی
رحیمیہ :۳؍۴۵۶، دارالاحسان دیوبند)

