سفرمیں دو نماز وں کو ایک وقت میں جمع کرنا

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

میں اپنے مالک(owner)کے  ساتھ سفرپرتھا، انہوں نے ظہر کی نماز کے  بعد عصر  کی نماز  پڑھنے کےلئے کہاتومیں نہیں مانا،  انہوں نے کہا حدیث میں ہے کہ   سفر کی وجہ سے نماز کو وقت سے  پہلے پڑھنے کی گنجائش ہے،اور انہوں نے ظہرکےوقت  ہی میں عصر کی نماز بھی ادا کردی ۔کیااُن کی یہ بات  اور عمل شرعاًدرست ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق :

 جمع بین الصلاتین(دو نمازوں کو ایک نماز کے وقت میں جمع کرکے پڑھنا عرفات اور مزدلفہ کے علاوہ کسی  بھی صورت میں جائز نہیں، البتہ حالتِ سفرمیں کسی خاص عذر کی وجہ جمع ِ صوری کی گنجائش ہے، یعنی  ظہرکی نماز کو آخروقت میں  ادا  کرکے  نمازِعصر کو اس کےاول وقت میں اداکیاجائے۔

حدیث میں جہاں کہیں دو نمازوں کو جمع کرنے کا ذکر ملتاہے ،اس سے مراد یہی جمعِ صوری ہے ،جمع ِ حقیقی نہیں ؛لہذا دو نمازوں کو حقیقۃً ایک وقت میں جمع کرنا جائز نہیں ، اس لئے  تمہارےمالک نےظہر  کےوقت میں جوعصر کی نماز پڑھی،وہ نمازنہیں ہوئی ،اس  کااعادہ کرنا ضروری  ہے ۔

قال اللہ تعالیٰ : إِنَّ الصَّلاةَ كانَتْ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ كِتاباً مَوْقُوتاً.(سورة النساء :۲۰۱)

عن ابن عباس عن النبيِّ ﷺ قال: مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الصلاتَيْنِ من غيرِ عُذْرٍ فقد أتَى بَابًا من أبوابِ الكبائر.(سنن الترمذی :رقم الحدیث :۱۸۶، دار الرسالة العالمية)

عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ  إِذَا عَجِلَ عَلَيْهِ السَّفَرُ يُؤَخِّرُ الظُّهْرَ إِلَى أَوَّلِ وَقْتِ الْعَصْرِ فَيَجْمَعُ بَيْنَهُمَا وَيُؤَخِّرُ الْمَغْرِبَ حَتّٰى يَجْمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ حِينَ يَغِيبُ الشَّفَقُ.(صحيح مسلم  :رقم الحدیث :۷۰۴،دار الطباعة العامرة – تركيا)

(قوله: وعن الجمع بين الصلاتين في وقت بعذر) أي منع عن الجمع بينهما في وقت واحد بسبب العذر للنصوص القطعية بتعيين الأوقات فلا يجوز تركه إلا بدليل مثله ولرواية الصحيحين قال عبد اللہ بن مسعود: والذي لا إله غيره؛ ما صلى رسول اللہ ﷺ صلاة قط إلا لوقتها إلا صلاتين جمع بين الظهر والعصر بعرفة وبين المغرب والعشاء بجمع وأما ما روي من الجمع بينهما فمحمول على الجمع فعلا بأن صلى الأولى في آخر وقتها والثانية في أول وقتها.(البحرالرائق:۱؍۲۶۷، دار الكتاب الإسلامي) (مستفاد فتاوی قاسمیہ :۷؍۲۸۲،اشرفی بک ڈپو،دیوبند)