سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
میری شادی ہوکرایک عرصہ
ہوگیالیکن کوئی اولاد نہیں ہوئی ، کیا میں
کسی بچے کوگودلیکر پرورش کرسکتی ہوں ،تفصیل کےساتھ بتائیں مہربانی ہوگی؟
الجواب وباللہ التوفیق :
صورتِ مسئولہ میں اگرآپ کسی بچے کوگود لیکراس کی پرورش کرنا چاہتی ہیں توتین
باتوں پرعمل کرنا ضروری ہوگا ۔(۱)لے پالک بچے کی نسبت اس کے حقیقی ماں باپ کی طرف ہی کی جائے،لہذابچہ کے پیدائشی سرٹیفکیٹ، شناختی
کارڈ،اورنکاح نامہ وغیرہ میں حقیقی والد کا نام درج کیاجائے۔(۲) اگرگودلینے والی عورت
کا بچہ کے ساتھياگودلینے والے باپ کا بچی کے ساتھ محرمیت(نسب وخون) کارشتہ نہ ہوتو بالغ ہونے کے بعد لازمی
طورپرپردہ کیاجائے، ہاں گودلینےکے بعدبچےکواُس کی عمرکے دوسال کےاندرعورت اپنادودھ پلادےتواب وہ بچہ کے لئے رضاعی ماں
ہوجائےگی؛اورپردہ نہیں ہوگا۔ (۳) اورلے پالک بچہ یا بچی کااس کی پرورش کرنےوالے کی
میراث میں شرعاً کوئی حصہ نہیں ہوگا،ہاں ایک تہائی مال
کی وصیت یاہبہ کیاجاسکتا ہے، اس کی پوری تفصیل
علمائےکرام سے معلوم کرلی جائے۔ (مستفاد: فتاوی ٰ دارالعلوم
دیوبند:فتویٰ نمبر:۳۹۴۲۶)
اُدْعُوهُمْ لِآبائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِنْدَ اللہِ (سورۃ الاحزاب :۵)كان الرجل في الجاهلية إذا أعجبه من الرجل جلده وظرفه ضمه إلى نفسه وجعل له نصيب الذكر من أولاده من ميراثه وكان ينسب إليه فيقال فلان بن فلان. وقال النحاس: هذه الآية ناسخة لما كانوا عليه من التبني.(تفسیرالقرطبی :۱۴؍۸۰ ،دارالکتب العلمیۃ بیروت)
وَما جَعَلَ
أَدْعِياءَكُمْ أَبْناءَكُمْ(سورۃ الاحزاب :۴) فلايثبت بالتبنى شئ من احكا م البنوة من حرمة النكاح وغير ذلك.
(تفسیرالمظهري:۷؍۲۹۲
،مطبعة زكريا ديوبند)

