سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ
بہت سے لوگ
چھوٹےاورناسمجھ بچوں کومسجدلےآتےہیں جومسجدمیں شور مچاتے ہیں، جس سےنمازپڑھنےوالوں
کوخلل ہوتاہے اورکبھی مسجدکی چیزوں کونقصان بھی پہنچتا ہے، تو کیا ناسمجھ بچوں کومسجد لے آنا درست ہے؟ اوراُن کو کہاں کھڑا کریں ؟ اُمید ہے کہ
رہبری فرما کر شکریہ کا موقع عنایت فرمائیں گے۔
الجواب وباللہ التوفیق :
چھوٹےاور ناسمجھ بچوں کومسجدمیں لانے کی اجازت نہیں ، کیونکہ بچوں کی وجہ
سے مسجد كا ادب واحترام باقی نہیں رہتااورنمازکاخشوع
وخضوع بھی جاتارہتا ہے،نیزبچےعام نمازیوں کےلئے پریشانی
کاباعث بنتے ہیں۔
البتہ اگرنابالغ بچےسمجھ دارہوں
جوپاکی صفائی کااہتمام کرنےوالےاورمسجدکاادب و احترام کرنےوالےاورنمازوں میں خلل
ڈالنےوالےنہ ہوں تواُنہیں مسجدلاناچاہئے،تاکہ وہ نماز باجماعت کا عادی بن سکیں۔
مسجدمیں بالغ حضرات کےپیچھےنابالغ بچوں کی الگ صف بنائی جائے،جہاں وہ
کھڑے ہوں گے۔اگر ایک ہی
بچہ ہو تواس کوصف کےکنارے دائیں یا بائیں جانب کھڑا کیاجائے۔
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺقَالَ:جَنِّبُوا مَسَاجِدَكُمْ صِبْيَانَكُمْ وَمَجَانِينَكُمْ..…الخ (سنن ابن ماجۃ:رقم: ۷۵۰ ،دار إحياء الكتب العربية)
ويحرم إدخال صبيان ومجانين حيث غلب تنجيسهم وإلا فيكره .
قال الشامي : والمراد بالحرمة كراهة التحريم لظنية الدليل....وإلا
فيكره أي تنزيها. (الدرمع الرد:۱؍۶۵۶،دار الفكر
بیروت)
الرجال ثم الصبيان ظاهره تعددهم فلو واحدا دخل الصف. (الدرالمختار:۷۸،دار الفكر بیروت)(مستفاد:فتاوی رحیمیہ :۵؍۱۷۱،دارالاحسان دیوبند)

