زیورات اپنےبچوں کے نام کرنا

سوال : کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ

 میری بیوی نےاپنےزیورات اپنےبچوں کے نام  کر دئیے،کیااب بھی اُن زیورات کی زکوۃ دینا ضروری ہے،اورکیادُوبارہ  میری بیوی ان زیورات کوپہن  سکتی ہے؟

الجواب وباللہ التوفیق :

اگرآپ کی بیوی نےاپنی خوشی سے اپنے زیورات  اپنے نابالغ بچوں کےنام ہبہ کیااوراُس پرآپ نے(باپ ہونےکی حیثیت سے)قبضہ کرلیاتواب آپ کےبچےاُن زیورات کےمالک ہوچکے،لہذااُن بچوں کےبالغ ہونے تک اُن زیورات کی زکوۃ نہ اُن پرواجب ہےاورنہ آپ لوگوں پر،اوربچوں کےوالدین یعنی آپ لوگ اُن زیورات کواستعمال کئے بغیراپنےپاس محفوظ رکھیں گے۔ 

وأما شروط وجوبها فمنها الحريةوالإسلام والعقل والبلوغ فليس الزكاة على صبي ومجنون. ..... وكذا الصبي إذا بلغ يعتبر ابتداء الحول من وقت بلوغه هكذا في التبيين.(الفتاوى الهندية:۱؍۱۸۹ بيروت)